وزیر اعظم خود کو احتساب کیلئے پیش کرکے پیچھے ہٹ گئے، خورشید شاہ -
The news is by your side.

Advertisement

وزیر اعظم خود کو احتساب کیلئے پیش کرکے پیچھے ہٹ گئے، خورشید شاہ

سکھر : پاکستان پیپلز پارٹی کے مرکزی رہنما اور قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر سید خورشید شاہ نے کہا ہے کہ وزیراعظم نے خود پارلیمنٹ میں کہا تھا کہ احتساب ان سے شروع کیا جائے، وزیراعظم کا خود اعلان کرکے پیچھے ہٹ جانا بہت سے سوالات کو جنم دے رہا ہے۔

ان خیالات کا اظہارانہوں نے سکھر میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا، سید خورشید شاہ کا کہنا تھا کہ نواز شریف کی حکومت نے کرپشن کے عالمی ریکارڈ بنا ڈالے ہیں، ان کو کسی کا کوئی خوف نہیں ۔اس ساری صورت حال میں ن لیگ کے 25 ایم این ایز بھرے بیٹھے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) کے رہنماؤں کی جانب سے رائیونڈ مارچ کے اعلان کے بعد سے جس طرح کے بیانات سامنے آئے ہیں اس سے خدشہ ہے کہ کہیں تحریک انصاف کے مارچ میں تصادم نہ ہوجائے، اگر پی ٹی آئی کارکنان پر پتھر برسائے گئے تو جواب میں پھول نہیں بلکہ اینٹیں ملیں گی، ملک پہلے ہی نقصان اٹھا چکا ہے اس لئے مزید کسی ایڈونچر کا متحمل نہیں ہوسکتا۔

اپوزیشن لیڈر نے کہا کہ عمران خان کی اپنی جماعت ہے وہ اپنے فیصلے کرنے میں آزاد ہیں، انہوں نے کہا کہ اگر کوئی جماعت اسپیکر پر اعتماد نہیں رکھتی تو ان کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک لائیں ہم جمہوری لوگ ہیں پارٹی کی پالیسیوں کے مطابق چل رہے ہیں، جمہوری روایات کے مطابق عوام کے ذریعے تبدیلی کے خواہاں ہیں، عوام سے رجوع کرنے کا مطلب اسلحہ اٹھانا یا بغاوت نہیں۔

سندھ اسمبلی کی نشست پی ایس 127 میں پیپلزپارٹی کی کامیابی پر خورشید شاہ کا کہنا تھا کہ پی ایس 127 پیپلزپارٹی کی ہی نشست تھی اور ہماری کامیابی کے بعد الزامات سامنے آنا سیاسی روایات ہیں لیکن ہم نے اپنی کھوئی ہوئی نشست دوبارہ حاصل کی ہے۔

خورشید شاہ نے کہا کہ نندی پور پراجیکٹ میگا کرپشن کا منصوبہ ہے اس کی لاگت 22 سے 65 ارب روپے پر چلی گئی۔ اب نیلم پراجیکٹ میں بھی کھربوں کی کرپشن کی داستانیں سامنے آرہی ہیں۔

وقت ہی بتائے گا کہ کس منصوبے میں کتنی کرپشن کی گئی ہے۔انہوں نے کہا کہ آئی ایم ایف سے بھیک مانگ کر ایک دوسرے کو مبارکباد دی جاتی ہے۔

 

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں