site
stats
پاکستان

آپریشن دہشت گردی کے خلاف ہےکسی قوم کےنہیں، خواجہ آصف

اسلام آباد : وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ دہشت گردوں کا کوئی مذہب، نسل یا صوبہ نہیں ہوتا اس لیے یقین دہانی کراتا ہوں کہ کسی ایک قوم کو ٹارگٹ نہیں کیا جائے گا۔

وفاقی ویزر دفاع نے کہا کہ دہشت گردوں کے خلاف کارروائی حساس مسئلہ ہے جس کو باخوبی انجام دے رہے ہیں تاہم کسی ایک قوم کو ہدف بنانے کی خبروں کی تردید کرتے ہیں کہ دہشت گرد کی کوئی نسل، قومیت یا مذہب نہیں ہوتا۔


انہوں نے کہا کہ یقین دہانی کراتا ہوں کہ کسی ایک قوم کو ٹارگٹ نہیں کیا جا رہا ہے نہ ہی آئندہ ایسا کیا جائے گا کہ کیوں کہ ہم بخوبی جانتے ہیں کہ دہشت گردوں کا کوئی بارڈر نہیں ہوتا وہ پورے ملک کے دشمن ہیں۔

وزیردفاع خواجہ آصف نے کہا کہ پاکستان میں افغانستان سے دہشت گردی ہوتی ہے اور افغانستان بھارت کے ساتھ مل کر پاکستان کی سلامتی کے خلاف سازشیں کر رہا ہے جب کہ ہم افغانستان کے ساتھ بہتر بارڈر مینجمنٹ چاہتے ہیں۔

وزیردفاع خواجہ آصف نے بتایا کہ جنوبی پنجاب میں بھی بڑے بڑے دہشت گرد مارے گئے ہیں جس میں پنجاب پولیس اور سی ٹی ڈی نے دلیرانہ کردار ادا کیا ہے۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان نے 30 لاکھ افغانیوں کو پناہ دی اور ان کا خیال رکھا لیکن افغانستان سے ہمارے بچوں کو مارا جا رہا ہے اس پاک افغان سرحد بند کرنا ہمارا حق ہے۔

خواجہ آصف نے تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ قومی سلامتی کو سیاسی مسئلہ نہ بنایا جائے دہشت گردی کے خلاف پوری قوم متحد ہیں لیکن ایک صاحب نے کرکٹ پر بھی سیاست کی۔

انہوں نے کہا کہ معاملہ حساس ہے اس پر کسی بھی رائے زنی سے پہلے کافی سوچ بچار سے کام لینا چاہیے اور کسی بھی قسم کے تاثر پیش کرنے میں احتیاط برتنی چاہیے کیوں کہ ہم سب نے ہی مل کر اس جنگ کو منطقی انجام تک پہنچانا ہے۔

ایک سوال کے جواب میں وزیر دفاع نے کہا کہ 8مارچ تک مسدود کیے گئے شناختی کارڈز کا مسئلہ حل کر لیا جائے گا اس حوالے سے نادرا نے اپنا کام مکمل کر لیا ہے۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top