پاکستان کوقربانی کا بکرا بنا کرافغانستان کومستحکم نہیں کیاجا سکتا، خواجہ آصف khuwaja-asif
The news is by your side.

Advertisement

پاکستان کوقربانی کا بکرا بنا کرافغانستان کومستحکم نہیں کیاجا سکتا، خواجہ آصف

اسلام آباد : وفاقی وزیر خارجہ محمد آصف نے کہا ہے کہ افغانستان کی جنگ پاکستان میں نہیں لڑی جاسکتی اور پائیدار قیام امن کے لیے امریکا افغانستان میں دہشت گردوں کی پناہ گاہیں ختم کرے۔

انہوں نے سینیٹ میں خطاب کرتے ہوئے اس تاثر کی سختی سے تردید کی کہ پاکستان افغانستان کو غیر مستحکم کر رہا ہے بلکہ حقیقت حال یہ ہے کہ پر امن افغانستان پاکستان کے اپنے مفاد میں ہے اور جس کے لیے پاکستان نے قربانیاں بھی دی ہیں۔

وفاقی وزیر خارجہ نے کہا کہ پاکستان نے پُرامن افغانستان کیلئے تمام عالمی کوششوں کی نہ صرف حمایت کی ہے بلکہ آگے بڑھ کر امن کاوشوں کا ساتھ دیا ہے اس لیے پاکستان بھی دوسرے ممالک سے بھی ایسا ہی تعاون چاہتا ہے۔

خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ پاکستان نے ہمیشہ دہشت گردوں کے خلاف بلا امتیاز کارروائی کی ہے اور اپنی سرزمین کسی کے خلاف استعمال نہیں ہونے دیتا اس قسم کا تاثر غلط اور جھوٹ پر مبنی ہے۔

انہوں نے کہا کہ عالمی برادری کو سمجھنا چاہیئے کہ پاکستان کودہشت گردی کے خلاف 120 ارب ڈالر سے زیادہ نقصان ہوا ہے اور دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستانی عوام اور افواج نے اپنی جانوں کے نذرانے دیئے ہیں اور یہ سلسلہ تاحال جاری ہے۔

خواجہ محمد آصف نے کہا کہ پاکستان میں افغانستان تنازع سے مہاجرین، منشیات اوراسلحہ آیا جس کا ہمیں نقصان بھی اٹھانا پڑا تاہم اب بھی پاکستان کو قربانی کا بکرا بنانا افغانستان کو مستحکم نہیں کرے گا۔

انہوں نے کہا کہ ہمیں مشرقی مغربی سرحد سےغیرمستحکم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے جب کہ پاکستان کے خلاف افغانستان میں محفوظ پناہ گاہیں موجود ہیں جو پاکستان میں بد امنی کا باعث ہیں۔

بعد ازاں سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے ایک پیغام میں وفاقی وزیر خارجہ نے آصف زرداری کی حکومت پر تنقید کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ سابق صدر موجودہ حکومت پر تنقید کرنے کے بجائے اپنے دور کے سابق سفیر برائے امریکا حسین حقانی کو لگام ڈالیں جو پاکستان مخالف امریکی پالیسی کا کریڈٹ لے رہے ہیں۔


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں