The news is by your side.

Advertisement

گردے کا ورم کتنا خطرناک ہے؟

گردوں کے امراض کے نتیجے میں ہونے والی سوزش (سوجن) بعض اوقات اس قدر حد تک بڑھ سکتی ہے کہ جس کی وجہ سے گردہ ضائع ہونے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔

عام طور پر جب بیکٹیریا گردے میں داخل ہوتا ہے تو انسان مختلف بیماریوں کا شکار ہوجاتا ہے جس کی وجہ سے پیشاب میں جلن اور مثانے کی تکلیف شروع ہوجاتی ہے۔

عرب میڈیا رپورٹ نے سیدیتی شمارے میں شائع ہونے والے ایک مضمون کا ترجمہ کر کے اسے اپنی ویب سائٹ پر شائع کیا جس کے مطابق گردوں میں ہونے والا کسی بھی قسم کا انفکیشن دونوں گردوں کو بیک وقت متاثر کرسکتا ہے لہذا اسے معمولی نہ سمجھا جائے اور فوری طبیب سے رجوع کیا جائے۔

پروفیسر ڈاکٹر احمد شعبان نے عرب میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ گردے میں بیکٹیریا پیشاب کی نالی یا مثانے کے ذریعے گردوں میں داخل ہوکر انفکیشن پیدا کرتا ہے۔

مزید پڑھیں: گردے کی پیوند کاری میں ڈرون کے استعمال کا کامیاب تجربہ۔ ویڈیو دیکھیں

انہوں نے بتایا کہ گردوں کو سب سے زیادہ متاثر کرنے والا بیکٹیریا کو ای کولی کے نام سے جانا جاتا ہے، یہ ایک عام قسم ہے۔

ڈاکٹر احمد شعبان نے بتایا کہ ’گردوں میں ہونے والے انفیکشن کی وجہ سے اُن پر ورم آجاتا ہے جس کی وجہ سے ناقابلِ برداشت درد محسوس ہوتا ہے، اگر ذیابیطس سے متاثرہ شخص کو گردے کی کوئی بھی بیماری ہو تو یہ اُس کے لیے بہت زیادہ خطرناک ثابت ہوسکتی ہے‘۔

انہوں نے بتایا کہ گردوں کی بیماری مردوں کے مقابلے میں خواتین کو ہونے کا امکان زیادہ ہوتا ہے۔

گردے کی سوزش کی علامات

بخار ہونا

کمر یا پشت پر شدید درد

پیشاب میں جلن

بار بار پیشاب آنا

گھبراہٹ

مرض کی تشخیص

گردوں میں ہونے والے انفیکشن کا علاج اینٹی بائیوٹکس کے ذریعے پیشاب سے ٹیسٹ کیا جاتا ہے جس کی رپورٹ میں انفیکشن کا سبب اور بیکٹیریا کے بارے میں معلوم کیا جاتا ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں