The news is by your side.

Advertisement

کھانا مانگنے پر سوتیلے باپ اور ماں کا بچوں‌ کے ساتھ انسانیت سوز سلوک

نورسلطان: قازقستان کی پولیس نے سوتیلے باپ اور ماں‌ کے بہیمانہ تشدد کا نشانہ بننے والے بہن بھائیوں کو بازیاب کرلیا۔

غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق قازقستان کی پولیس نے 9 سالہ ذہنی معذور  لڑکے اور 18 ماہ کی لڑکی کو بازیاب کرایا جنہیں اُن کا سوتیلا باپ کھانا مانگنے پر سگریٹ سے جلاتا تھا۔

پولیس حکام کے مطابق والدین نے بچوں کو گھر میں قید رکھا ہوا تھا اور جب بھوک کی شدت سے بچے کھانا مانگتے تھے تو دونوں مل کر اُن کو بہیمانہ تشدد کا بناتے تھے۔

بازیاب کرائے گئے بچے بہن بھائی ہیں جن کی شناخت ڈینل اور سویتا کے ناموں سے ہوئی، پولیس نے دونوں بچوں کو اسپتال منتقل کردیا کیونکہ اُن کے چہرے اور گردن سگریٹ کی وجہ سے بری طرح سے جھلسے ہوئے تھے۔

پولیس حکام کے مطابق 9 سالہ ڈینل ذہنی معذوری کی وجہ سے چل پھر نہیں سکتا، دونوں بچوں کو والدین نے گھر سے نکالا جو سخت سردی کے عالم میں مشرقی علاقے کمینوگورسک پر بیٹھے ہوئے تھے۔

ڈینل نے بتایا کہ انہوں نے جب صبح اپنے والد سے پانی مانگا تو انہوں نے تشدد کا نشانہ بنانے کے بعد دونوں کو سزا کے طور پر گھر سے باہر نکال دیا۔

پڑوسی نے بچے کی بات سننے کے بعد پولیس کو کال کر کے صورتحال سے آگاہ کیا اور پھر ایمبولینس طلب کی اور انہیں‌ موٹے کپڑے فراہم کیے۔ ڈاکٹرز کے مطابق ڈینل اور سویتا کا جسم بری طرح سے جھلسا ہوا ہے، دونوں کے جسموں پر سگریٹ لگائی گئی۔

اسپتال انتظامیہ کے مطابق دونوں بچوں نے 12 ڈگری سینٹی گریڈ میں بغیر جیکٹ کے کئی گھنٹے کھلے آسمان تلے گزارے، اور وہ کئی روز سے بھوکے بھی تھے۔

پولیس کے مطابق بچوں کو طبیعت میں بہتری کے بعد انہیں چائلڈ پرٹیکشن ہاؤس کے سپرد کردیا جائے گا کیونکہ دونوں ہی اب گھر واپس جانے پر رضا مند نہیں ہیں۔

میڈیا رپورٹ کے مطابق پولیس نے واقعے کی تحقیقات شروع کردی ہیں تاکہ جو بھی تشدد میں ملوث ہو اُس کے خلاف کارروائی عمل میں لائی جائے۔

fb-share-icon0
Tweet 20

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں