بدھ, مئی 29, 2024
اشتہار

قاتل، قتل کرنے کے بعد آدم خور بن گیا، حقیقی دہشتناک واردات

اشتہار

حیرت انگیز

قاتل نے ایک شخص کو قتل ہی نہیں کیا بلکہ قتل کے بعد آدم خور کی طرح مقتول کی لاش کو کھا گیا۔

دنیا میں قتل کے کئی محرک ہوتے ہیں جن میں دشمنی، دولت، عورت، انا کی تسکین کے علاوہ نفسیاتی مسئلہ بھی کسی کی زندگی کو ختم کرنے کا سبب بنتا ہے۔ ایسا عموماً جب ہوتا ہے کہ قاتل کسی انسان کو قتل کے بعد کوئی غیر معمولی رویہ اختیار کرتا ہے۔

قتل کی ایسی ہی ایک لرزہ خیز واردات امریکا میں پیش آئی، جہاں قاتل نے ایک شخص کو قتل کرنے پر ہی اکتفا نہیں کیا بلکہ اس کے بعد مقتول کا چہرہ، آنکھ اور کان کھا لیا۔

- Advertisement -

غیر ملکی میڈیا کے مطابق یہ خوفناک واقعہ لاس ویگاس، نیواڈا میں پیش آیا جہاں ملزم نے سہولت اسٹور پر آنے والے ایک گاہک کو پہلے وحشیانہ تشدد کا نشانہ بنایا اور اس کے بعد متاثرہ شخص کا چہرہ، آنکھ اور کان کو کھا لیا۔

مقتول کی شناخت 29 سالہ کولن چیک کے نام سے ہوئی ہے جس نے مبینہ طور پر لاس ویگاس بلیوارڈ کے قریب چارلسٹن بلیوارڈ پر کینتھ براؤن نامی شخص کا سر زور سے زمین پر پٹخ کر اسے مار ڈالا۔

رپورٹ کے مطابق 7- الیون کے ایک ملازم نے پولیس کو بتایا کہ ایک شخص نے پارکنگ میں ایک گاہک کو گھونسہ مارا اور پھر اس کا سر زور سے فرش پر دے مارا۔ اس کے 45 منٹ بعد پولیس کو عینی شاہدین کی طرف سے ایک اور کال موصول ہوئی جس میں بتایا گیا کہ ایک شخص کسی دوسرے آدمی کا چہرہ کھا رہا ہے۔

پولیس جب وہاں پہنچی تو متاثرہ شخص کے چہرے پر بڑا کٹ لگا ہوا تھا اور اس کی ایک آنکھ اور ناک غائب تھی جب کہ جسم سے خون بہہ رہا تھا۔ اس کو فوری طور پر اسپتال لے جایا گیا، جہاں ڈاکٹروں نے اس کو مردہ قرار دے دیا۔

پولیس نے چیک کو اس کے بالوں، منہ اور لباس پر لگے مقتول کے خون اور کھائے جانے والے جسمانی اعضا کے ٹکڑوں کے ساتھ رنگے ہاتھوں کھلے عام قتل کے الزام میں گرفتار کر لیا۔

Image

ملزم نے گرفتاری کے بعد دعویٰ کیا کہ وہ بے گھر ہے اور پانچ روز سے مسلسل جاگ رہا ہے۔

مبینہ قاتل نے دعویٰ کیا کہ مقتول نے پہلے اس پر حملہ کیا جس کے جواب میں اس نے کینتھ کو مار ڈالا اور دانوں سے مقتول کی چہرہ کھایا۔

وحشی صفت ملزم کو لاس ویگاس کی عدالت میں پیش کیا گیا جہاں چیک کے وکیل نے جج ایمی چیلینن کو بتایا کہ ان کے خیال میں ملزم مقدمے کا سامنا کرنے کے قابل نہیں ہے۔

چیف ڈپٹی پبلک ڈیفنڈر ڈیوڈ ویسٹ بروک نے عدالت کو کہا کہ اس نے ملزم سے بات کی ہے اور اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ وہ مقدمے کا سامنا کرنے کے قابل نہیں ہے جب کہ وہ اس کے طبی معائنے کی درخواست کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

Comments

اہم ترین

ویب ڈیسک
ویب ڈیسک
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

مزید خبریں