The news is by your side.

Advertisement

امریکا میں خوف کی علامت قاتل مکھی کا سراغ مل گیا

واشنگٹن: ایشیائی ملکوں میں انتہائی خطرناک سمجھے جانے والی سرخ بھڑ کا چھتہ اب امریکا میں بھی تلاش کرلیا ہے، جو باسکٹ بال کے سائز کا ہے۔

تفصیلات کے مطابق امریکی سائنسدانوں نے سُرخ یا گہری زرد رنگت والی بڑی بِھڑوں کے اس چھتے کو کینیڈین سرحد کے قریب بلین نامی قصبے میں تلاش کیا ہے۔Murder Hornet Nest, First in U.S., Is Found in Washington State - The New  York Timesسائنس دانوں کا کہنا ہے کہ امریکا میں پہلی مرتبہ دس ماہ قبل ایشیائی ہارنیٹ کو دیکھا گیا تھا، حکام نے اس چھتے کی تلاش کے لیے تین ہارنیٹ کے ساتھ ریڈیو ٹریکر باندھ کر انہیں چھوڑا تھا، ہارنیٹ جب اپنے چھتے میں پہنچی تو زرعی ماہرین اس بڑے چھتے کو تلاش کرنے میں کامیاب ہوئے۔

واشنگٹن کے محکمہ زراعت کے حکام کے مطابق سرخ بھڑ ہارنیٹ کا چھتہ درختوں میں گھرے علاقے میں ہے اور یہ چھتہ ایک درخت کے اندر زمین سے قریب آٹھ فٹ بلند ہے، اس زمین کے مالک نے محکمہ زراعت کو چھتہ ہٹانے کے ساتھ اُسدرخت کو بھی کاٹنے کی اجازت دے دی ہے جس میں یہ چھتہ موجود ہے۔What You Need To Know About the Asian Giant Hornet, a.k.a. the Murder Hornet  - UT Dallas Magazine - The University of Texas at Dallasامریکا پہنچنے والے ہارنیٹ کے زہریلے ہونے کا اندازہ اس سے لگایا جا سکتا ہے کہ صرف جاپان میں ہر سال اس کے کاٹنے سے تیس سے پچاس افراد کی ہلاکت ہوتی ہے، محققین کا خیال ہے کہ سرخ بھڑوں کی افزائش کا اصل علاقہ جاپان ہے، امریکا میں زرد بھڑوں اور شہد کی مکھیوں کے کاٹنے سے سالانہ بنیاد پر ہونے والی اوسطاً ہلاکتیں باسٹھ ہیں۔

امریکی زرعی حکام اس پر بھی غور کر رہے ہیں کہ ہارنیٹ براعظم ایشیا سے امریکا کیسے پہنچے ہیں، ان کی پہلی مرتبہ نشاندہی دسمبر سن 2019 میں ہوئی تھی۔ یہ دو انچ (پانچ سینٹی میٹر) لمبی ہوتی ہیں اور شہد کی مکھیوں کی شدید دشمن بھی، چند ہارنیٹ مل کر شہد کی مکھیوں کے ایک بڑے چھتے کو چند گھنٹوں میں اجاڑ دیتی ہیں۔

واضح رہے کہ ایشیائی ملکوں میں سرخ بھڑ کو انتہائی خطرناک خیال کیا جاتا ہے، یہ بہت ہی زہریلی ہوتی ہیں، سرخ بھڑ کو اردو میں زنبور بھی کہا جاتا ہے۔ اس اڑنے والے خطرناک کیڑے کو انگریزی میں ہارنیٹ (Hornet) کہتے ہیں لیکن اس کے زہریلے ہونے کی وجہ سے اسے عام طور پر ‘مرڈر ہارنیٹ‘ یعنی قاتل زنبور بھی کہا جاتا ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں