The news is by your side.

Advertisement

دلیپ کمار کا نائی

فکاہیہ از کرشن چندر

میں اپنی لانڈری میں لالہ ہر پرشاد کے لڑکے ہنسی پرشاد کی نئی ریشمی قمیص پر استری پھیر رہا تھا جو اس نے پچھلے ہفتے اپنی شادی کے موقع پر سلوائی تھی، کہ اتنے میں میرا نوجوان ملازم فضلو آہستہ آہستہ سیٹی بجاتا ہوا دکان کے اندر داخل ہوا۔

میں اسے دیکھتے ہی بھونچکا رہ گیا۔ کیوں کہ فضلو بہت ہی سیدھا سادہ احمق لڑکا ہے جیساکہ لانڈری والے کے ملازم کو بلکہ ہر ملازم کو ہونا چاہیے۔ اسی لیے تو جب میں نے فضلو کے سر کی طرف دیکھا تو سکتے میں آ گیا۔

“فضلو یہ تمہارے سر کو کیا ہوا ہے ؟” آخر میں نے چلّا کے پوچھا۔
فضلو نے مسکرا کے کہا۔ “شہر میں دلیپ کمار کا نائی آیا ہے۔ ” یہ کہنے کے بعد فضلو نے بہت محبت سے اپنے سر پر ہاتھ پھیرا اور ماتھے پر جھکی ہوئی لٹ کو اور لٹکا لیا۔ اس کے سر کے بال چھدرے چھدرے کٹے تھے۔ اور چھوٹے کر دیے گئے تھے۔

صرف بائیں جانب بالوں کا ایک گچھا لانبا رہ گیا تھا جو باقی بالوں سے لانبا ہونے کی وجہ سے خود بخود ایک کٹی ہوئی بیل کی طرح ماتھے پر آپڑا تھا۔ اور دور سے دیکھتے ہوئے یوں معلوم ہوتا تھا جیسے سریش سے ماتھے پر چپکا دیا گیا ہو۔ پیچھے سے سر کی ڈھلوان سے بال یوں کاٹے گئے تھے جیسے کسی پہاڑی ڈھلوان سے گھاس کاٹ لی گئی ہو۔ بہ حیثیت مجموعی فضلو کا سر دور سے ایک منڈی ہوئی بھیڑ کی طرح نظر آ رہا تھا۔

میں نے حیرت سے پوچھا: “کون ہے وہ نائی؟”

“اپنا شدو۔ ”

وہ گھیسو قصاب کا لونڈا جو دو سال ہوئے گھر سے بھاگ گیا تھا؟” فضلو نے اثبات میں سر ہلا دیا۔

“کہاں ہے اس کی دکان؟”

فضلو بولا “تیلیوں کے بازار سے آگے چوک میں۔ ”

میں جلدی سے اپنی لانڈی سے باہر نکلا تو فضلو نے پکار کے کہا۔ “مگر جمن چاچا، بال بنوانے ہیں، تو ڈیڑھ روپیہ ساتھ لیتے جاؤ، وہ اس سے کم میں بال نہیں کاٹے گا، دلیپ کمار کا نائی ہے۔”

“چپ بے نامعقول۔ “میں نے چوک کی طرف بھاگتے ہوئے کہا۔ ” اس بھیڑ منڈائی کا میں ڈیڑھ روپیہ دوں گا؟”

لیکن شدو کی دکان پر بہت بھیڑ تھی۔ میں ذرا دیر میں پہنچا، بال بنوانے والوں کا پہلے ہی سے ایک لمبا کیو لگ چکا تھا۔ دکان کے باہر جلی حروف میں بورڈ پرلکھا تھا۔

‘دلیپ کمار کا نائی’، بمبئی ٹرینڈ، ماسٹر شدو حجام۔ اور اس بورڈ کے نیچے ایک دوسرے بورڈ پر ریٹ لکھے تھے۔

دلیپ کمار ہیئر کٹ = ڈیڑھ روپیہ
دلیپ کمار شیو = ایک روپیہ
دلیپ کمار شمپو = دو روپیہ آٹھ آنے
دلیپ کمار مالش = پانچ روپے

شدو نے مجھے آتے ہی پہچان لیا۔ وہ میرے گھٹنوں کو چھو کر بولا” چاچا جمن مجھے پہچانتے ہو؟” شدو کو کون نہیں پہچانے گا۔ محلے کا سب سے شریر لونڈا دبلا، پتلا، کالا، چیچک رو، ایک آنکھ سے کانا۔ مگر زبان جیسے لال مرچ، جیسے کترنی، جیسے گالیوں کا فوارہ بار بار چنے پر بھی شرارت سے باز نہ آئے۔ ایک روز سویرے فضلو کو پھسلا کر اس سے شیخ غلام رسول بیرسٹر کے لڑکے کا ہنٹنگ کوٹ جو میری لانڈری میں ڈرائی کلین ہونے کو آیا تھا، ایک روز کے لیے پہننے کو لے گیا تھا۔ بس اسی دن سے غائب تھا۔

ناچار کوٹ کی قیمت مجھے ادا کرنی پڑی، میں شدو کو بھول سکتا تھا۔ میں نے زور سے ایک دھپ اس کی پیٹھ پر جمائی، شدو کے ہاتھ سے قینچی گر کر زمین پر جا پڑی، شدو کچھ ہنس کر کچھ رونکھا سا ہو کر میری طرف دیکھنے لگا۔

میں نے غصے سے کہا۔ ” میری طرف کیا دیکھتے ہو، کدھر ہے وہ کوٹ؟”

شدو کو یکایک یاد آیا، ہنستے ہنستے بولا: “واہ چاچا۔ تم بھی دو سال کے بعد اس زٹیل کوٹ کا ذکر کرتے ہو۔ ارے چاچا، جتنے کوٹ کہو اس بیرسٹر کے لونڈے کو بنوا دوں، کیا سمجھتے ہو، دلیپ کمار کانائی ہوں، دلیپ کمار کا۔”

(معروف افسانہ نگار اور ادیب کے مضمون سے اقتباسات)

Comments

یہ بھی پڑھیں