کوہستان ویڈیو اسیکنڈل: عدالت کا 4 ہفتے میں تحقیقات مکمل کرنے کا حکم -
The news is by your side.

Advertisement

کوہستان ویڈیو اسیکنڈل: عدالت کا 4 ہفتے میں تحقیقات مکمل کرنے کا حکم

اسلام آباد: کوہستان ویڈیو اسیکنڈل کیس کی سماعت کے دوران ایڈیشنل ایڈووکیٹ خیبر پختونخواہ نے دشوار گزار راستوں کا عذر پیش کرتے ہوئے مزید تحقیقات کے لیے 2 ماہ کی مہلت طلب کی تاہم عدالت نے انہیں 4 ہفتے کا وقت دے دیا۔

تفصیلات کے مطابق صوبہ خیبر پختونخواہ کے ضلع کوہستان میں غیرت کے نام پر 4 لڑکیوں کے قتل کے کیس کی سماعت سپریم کورٹ میں ہوئی۔ ایڈیشنل ایڈووکیٹ خیبر پختونخواہ نے عدالت کو بتایا کہ فوٹیج میں نظر آنے والی لڑکیوں کی شناخت نہیں ہوسکی۔

انہوں نے کہا کہ جدید آلات کے فقدان کے باعث لڑکیوں کو شناخت نہ کر سکے، بنائی گئی ویڈیو کی کوالٹی ناقص ہے۔ چہرے کے خدوخال بھی واضح نہیں۔

جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ پنجاب فرانزک لیب کو ویڈیو بھیجنے کا حکم دیا تھا۔ پنجاب فرانزک لیب کے پاس جدید آلات ہیں جس پر ایڈیشنل ایڈووکیٹ نے بتایا کہ پنجاب نہیں پشاور فرانزک لیب نے معائنہ کیا۔

جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ بورڈ میں 2 افراد نے کہا ویڈیو میں نظر آنے والی وہی لڑکیاں ہیں جنہیں قتل کیا گیا جبکہ ایک رکن نے مخالفت کی۔ پشاور فرانزک لیب کوئی نتیجہ اخذ نہ کر سکی۔

انہوں نے دریافت کیا کہ ایف آئی آر اور تحقیقات کا حکم دیا تھا اس کا کیا بنا؟ ایڈیشنل ایڈووکیٹ نے بتایا کہ 4 میں سے 2 لڑکیوں کے شناختی کارڈ بنے ہوئے تھے۔ ان کے فنگر پرنٹس نادرا کو بھیجے، تاہم نادرا کے ڈیٹا کے ساتھ فنگر پرنٹس کی مطابقت نہیں تھی۔

ایڈیشنل ایڈووکیٹ نے کہا کہ تحقیقات میں دشواریاں ہیں، متعلقہ علاقے تک پہنچنے کے لیے 6 گھنٹے کی مسافت ہے۔ مقامی افراد سے معلومات اکھٹی کیں تاہم ابھی سراغ نہیں ملا۔

انہوں نے عدالت سے استدعا کی کہ تحقیقات کو مزید آگے بڑھانے کے لیے 2 ماہ کا وقت دے دیں۔

عدالت نے ان کی استدعا مسترد کرتے ہوئے کہا کہ 4 ہفتے میں تحقیقات مکمل کر کے رپورٹ پیش کریں۔ کیس کی مزید سماعت 4 ہفتوں تک ملتوی کردی گئی۔

یاد رہے کہ سنہ 2012 میں ایک ویڈیو منظر عام پر آئی تھی جس میں ایک شادی کی تقریب میں کچھ لڑکیوں کو رقص کرتے اور تالیاں بجاتے دیکھا جاسکتا تھا۔ ان لڑکیوں کے بارے میں اطلاعات موصول ہوئیں کہ ان کا تعلق کوہستان سے ہے اور انہیں قتل کردیا گیا ہے جس کے بعد سپریم کورٹ نے واقعہ کا از خود نوٹس لے لیا تھا۔

از خود نوٹس لینے کے بعد سپریم کورٹ نے ڈی پی او کوہستان کو لڑکیوں کے قتل کی ایف آئی آر درج کر کے فی الفور مقدمہ کی تفتیش شروع کرنے کا حکم جاری کیا تھا۔

عدالت کا کہنا تھا کہ مقدمہ کی حقیقت جاننے کے لیے 3 جے آئی ٹیز بنائیں گئیں، تاہم ہر مرتبہ دھوکہ دیا گیا۔ جے آئی ٹیز کے سامنے دھوکہ دہی کی گئی اور دوسری رشتہ دار لڑکیاں پیش کی گئیں۔

کیس کی پیروی خواجہ اظہر ایڈووکیٹ کر رہے ہیں جبکہ سماجی کارکن فرزانہ باری اور کوہستان ویڈیو اسکینڈل کے مرکزی کردار افضل کوہستانی مقدمہ میں مدعی ہیں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں