کراچی کے علاقے کورنگی کریک میں گیس کے محدود ذخائر میں لگی آگ کی شدت تاحال برقرار ہے، 5 روز گزرنے کے بعد بھی آگ پر قابو نہ پایا جاسکا۔
اے آر وائی نیوز کے مطابق شہریوں کی بڑی تعداد گزشتہ روز ویڈیو بنانے کے لئے آگ کے مقام پر پہنچی۔
انتظامیہ کا کہنا ہے کہ آگ کے مقام پر شہریوں کے آنے پر پابندی عائد کردی گئی ہے، کیونکہ لوگ ویڈیو بنانے آگ کے قریب پہنچ رہے تھے۔
واضح رہے کہ آگ گیس کے کسی محدود ذخیرے میں لگی ہے، جس کے بارے میں جاننے کے لیے ماہرین نے ٹیسٹ کے لیے پانی اور کیچڑ کے نمونے لے لیے ہیں۔
متعلقہ اداروں کے ماہرین کی ٹیم نے بھی کورنگی کریک میں آگ بھڑکنے کے جائے وقوعہ کا دورہ کیا، اور مزید لیب ٹیسٹ کروانے کے لیے مختلف مقامات سے نمونے لے لیے گئے۔
آگ والی جگہ سے پانی اور کیچڑ کے نمونے حاصل کیے گئے ہیں، اطراف کی زمین کے مختلف حصوں سے بھی نمونے لیے گئے ہیں، لیے گئے ان نمونے سے سوائل ٹیسٹ کروایا جائے گا، اور اس سے قدرتی گیس کے محدود ذخیرے کا حجم معلوم ہو سکے گا۔
ادھر کنٹونمنٹ بورڈ کے ماہرین نے انکشاف کیا ہے کہ آگ خود ہی کچھ دنوں میں بجھ جائے گی، آگ بجھانے کی صورت میں نکلنے والی گیس اطراف کے علاقوں میں پھیلنے کا خدشہ ہے۔
واضح رہے کہ کورنگی کریک میں بورنگ کے دوران لگنے والی آگ پر تاحال قابو نہیں پایا جا سکا ہے، جہاں نجی ہاؤسنگ سوسائٹی کی بورنگ کے دوران آگ بھڑکی تھی، آئل گیس ماہرین نے خیال ظاہر کیا ہے کہ آگ ممکنہ طور پر گیس کے زیر زمین ذخیرے میں لگی ہوگی، یہ کم گہرائی میں موجود گیس کا چھوٹا ذخیرہ ہو سکتا ہے۔
کورنگی کریک : گیس پائپ لائن میں خوفناک آتشزدگی
کریک کنٹونمنٹ نے علاقے کو اپنی تحویل میں لے لیا ہے، جس جگہ آگ لگی وہاں 1200 فٹ سے زائد بورنگ یا ڈرلنگ کی گئی ہے، کے ایم سی اور کنٹونمنٹ بورڈ کی فائر بریگیڈ جائے وقوعہ پر موجود ہے، فائر بریگیڈ کا کہنا ہے کہ جائے وقوعہ پر سوئی سدرن گیس یا کسی دوسرے ادارے کی گیس لائن موجود نہیں ہے۔