تاریخِ عالم میں کوروش اعظم کو سائرس اعظم کے نام سے بھی یاد کیا جاتا ہے۔ قدیم ایران کے اس بادشاہ کے بارے میں محققین نے اپنے علم اور قدیم دور کی دریافتوں کی بنیاد پر حالات و واقعات اور اس کی سلطنت کا احوال بتانے کی کوشش کی ہے، جن میں سے بعض پر محققین کے درمیان اختلافِ رائے بھی دیکھنے کو ملتا ہے۔
کوروشِ اعظم کا زمانہ 600 قبل مسیح کے لگ بھگ بتایا جاتا ہے جس کی وسیع سلطنت کے بارے میں کئی مفروضے موجود ہیں۔ ایک عرصے تک مؤرخین کوروش اعظم کو ہخامنشی سلطنت کا بانی قرار دیتے رہے لیکن پھر بابل کے حکمران نبونیدس اور کوروش کے زمانے کے کچھ ستون کھدائی کے دوران برآمد ہوئے تو ان پر خط میخنی میں بعض تحریریں کندہ تھیں۔ ان تحریروں سے یہ نتیجہ اخذ کیا گیا کہ سلطنت کی بنیاد قبل ازیں رکھ دی گئی تھی۔ تاہم
کوروش اعظم کے دور میں اسے وسعت اور خوب استحکام نصیب ہوا اور اسی لیے وہ اپنے عہد کا عظیم بادشاہ خیال کیا جاتا ہے۔ اس کی یہ سلطنت 220 برس تک بڑے جاہ و جلال سے قائم رہی جسے بالآخر سکندراعظم نے ختم کیا۔
مشہور زمانہ یونانی مؤرخ ہیروڈوٹس ایک روایت بیان کرتا ہے کہ آل ماد کے آخری بادشاہ استیاغیس (Astyages) نے ایک خواب دیکھا جس میں ایک ایسا درخت دکھائی دیا جس نے پورے ایشیا کو گھیر لیا تھا۔ جب کاہنوں سے اس کی تعبیر پوچھی گئی تو انہوں نے بتایا کہ تمہارا پیدا ہونے والا نواسہ خاندان ماد (Medes) کی سلطنت کو ختم کر دے گا اور پورے ایشیا پر اپنا تسلط قائم کرے گا۔ کچھ عرصہ بعد استیاغیس کی بیٹی ماں بنی تو نومولود کو قتل کرنے کا حکم صادر کر دیا۔ لیکن بادشاہ کے ایک مصاحب نے اس معصوم کو مارنے کے بجائے ایک گڈریے کے سپرد کر دیا۔ اسی گڈریے نے اس کا نام کوروش رکھا اور اس کی پرورش کی۔ خواب کی تعبیر درست ثابت ہوئی اور جوان ہو کر کوروش نے اپنے باپ کمبوجیہ کے حکم پر اپنے نانا کی حکومت کا تختہ الٹا اور 549 میں ایران پر فارسیوں کی حکومت قائم کردی۔
محققین کے مطابق اس بادشاہ نے تین سلطنتوں کا خاتمہ کرکے اپنی حکومت قائم کی تھی جن میں سے ایک ایران کی آل ماد سلطنت، دوسری ایشیائے کوچک میں واقع یونان کی نوآبادی لیڈیا کے حکمران کروسوس (Croesus) کی سلطنت اور تیسری بابل کی کلدانی سلطنت تھی۔
کوروش اعظم نے حکم صادر کیا تھا کہ شہروں میں کسی قسم کی لوٹ مار اور غارت گری نہ کی جائے اور معبدوں کا پورا پورا احترام کیا جائے۔ فتح بابل کے متعلق ایک روایت مشہور ہے اور اس کے تحت جو واقعات لکھے ہیں وہ بہت انوکھے ہیں۔ کہتے ہیں کہ بابل کے بادشاہ کے محل میں ایک بڑی ضیافت کا اہتمام تھا اور اس موقع پر وہاں دیوار پر ایک غیبی تحریر نمودار ہوئی جسے پڑھنے کے لیے بابل میں موجود بنی اسرائیل کے اسیران میں سے حضرت دانیالؑ کو بلایا گیا۔ انہوں نے بتایا کہ اس میں اطلاع دی گئی ہے کہ بہت جلد فارسیوں کا لشکر سلطنت بابل کا خاتمہ کر دے گا اورایسا ہی ہوا۔
فتح کے بعد کوروش اعظم نے بنی اسرائیل کے بے گھر اسیران سے بڑی رعایت کی اور حکم دیا کہ جو اسیران یروشلم واپس جانا چاہیں انہیں اجازت ہے۔ اس موقع پر بڑی تعداد نے یروشلم کا رخ کیا۔ دوسری جانب کوروش اعظم گوبریاس کو وہاں کی حکمرانی سپرد کر کے خود واپس فارس آ گیا۔
کوروش کی زندگی کے ابتدائی حالات کی طرح اس کی آخری مہم کے متعلق کوئی مستند بات معلوم نہیں ہو سکی جب کہ اس کی موت سے متعلق بھی کئی روایات مشہور ہیں۔ ہیروڈوٹس لکھتا ہے کہ کوروش نے ماسا گتائی (Massagetae) قبائل کی ملکہ تومیرس (Tomyris) کو اپنی ملکہ بنانا چاہا لیکن اس نے انکار کردیا۔ کوروش نے غضب ناک ہوکر تومیرس کے علاقے پر لشکر کشی کی، لیکن ملکہ اور اس کے لشکر نے اس کا بڑی بے جگری سے مقابلہ کیا اور اسی لڑائی میں کوروش ہلاک ہوگیا۔ یہ 530 قبل مسیح کی بات ہے۔ کوروشِ اعظم کو پاسار گاد کے مقام پر دفنایا گیا تھا جہاں اس کا مقبرہ موجود ہے۔