site
stats
پاکستان

خیبرپختونخواہ میں سودی کاروبار کی روک تھام کے لیے آپریشن

پشاور: خیبر پختونخواہ اسمبلی سے سودی کاروبار کو روکنے اور اس میں ملوث افراد کے خلاف کاروائی کے حوالے سے قانون سازی کے بعد سودی کاروبار کے خلاف صوبے میں باقاعدہ آپریشن شروع کردیا ہے ۔

آپریشن کا جائزہ لینے کی غرض ا سپیکر خیبر پختونخوا اسمبلی اسد قیصر کی زیرِ صدارت سودی کاروبار کے خلاف پولیس کے گرینڈ تفصیلات کے مطابق آپریشن سے متعلق ایک اعلیٰ سطح کا اجلاس ہفتے کے روز اسپیکر ہاؤس پشاور میں منعقد ہوا۔

اجلاس میں سی سی پی او پشاور طاہر خان ،ڈی آئی جی مردان اعجاز خان،ایس ایس پی آپریشنز پشاور سجاد خان،ڈی پی او صوابی صہیب اشرف اور ڈی پی او کوہاٹ جاوید اقبال کے علاوہ پولیس کے دیگر متعلقہ افسران نے بھی شرکت کی۔

اس موقع پر سی سی پی او طاہر خان نے سپیکر صوبائی اسمبلی اور اجلاس کے شرکاء کو سودی لین دین کے خلاف پولیس کے گرینڈ آپریشن کی تفصیلات سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ صوبائی حکومت اور آئی جی پی خیبر پختونخوا کی ہدایات کی روشنی میں پورے صوبے میں سودی کاروبار کرنے والوں کے خلاف بھرپور کاروائی کا آغاز کر دیا گیا ہے۔

سی سی پی او نے بتایا کہ اس مکروہ کاروبار میں ملوث عناصر کو قانون کے کٹہرے میں لانے کے لئے بغیر کسی دباؤ کے بلا امتیاز کاروائی کی جا رہی ہے تاکہ انھیں قرار واقعی سز ا دی جائے۔

اسپیکر اسد قیصر نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ صوبائی حکومت نے معاشرے سے سودی لین دین سے خاتمے کے لئے قانون سازی کی ہے جس کہ تحت سودی کاروبار میں ملوث عناصر کو کڑی سزائیں دی جائیں گی۔انہوں نے سودی لین دین کی سرکوبی کے لئے کے پی پولیس کے کردار کو سراہا اور حکام کو ہدایت کی کہ سود کا کاروبار کرنے والے کسی رو رعایت کے مستحق نہیں،ایسے عناصر کے خلاف بھرپور کاروائی جاری رکھی جائے۔

اسد قیصر نے کہا کہ معاشرے سے سودی لین دین کے خاتمے کے لئے عوام بھی اپنا بھرپور کردار ادا کرتے ہوئے ایسے کاروبار میں ملوث افراد کی معلومات پولیس اور متعلقہ انتظامیہ کودیں۔

اسپیکر نے کہا کہ انہوں نے اس سلسلے میں علماء کرام سے بھی ملاقاتیں کی ہیں اور ان سے اپیل کی ہے کہ وہ اپنے خطبات کے ذریعے عوام میں سودی کاروبار کے سدباب کے لئے اسلامی تعلیمات کی روشنی میں آگاہی پھیلائیں تاکہ معاشرے سے اس لعنت کے خاتمے کی حکومتی کوششوں کو کامیاب بنایا جاسکے۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top