The news is by your side.

Advertisement

خیبر پختونخوا : کورونا لاک ڈاؤن کی مدت میں 15مئی تک توسیع

پشاور : خیبر پختونخوا حکومت نے کرونا وائرس پر قابو پانے کے لیے صوبے میں 15 مئی تک لاک ڈاؤن میں توسیع کر دی ہے، مویشی منڈی کھولنے کی اجازت بھی دے دی گئی۔

تفصیلات کے مطابق خیبر پختونخوا کی صوبائی کابینہ کا اجلاس جمعرات 30اپریل کو وزیر اعلیٰ محمود خان کی زیر صدارت ہوا اجلاس میں کورونا وائرس کے حوالے سے صوبائی حکونت کے اقدامات کا جائزہ لیا گیا، اور اہم فیصلے کیے گئے۔

بعد ازاں اس حوالے سے صوبائی وزیر اجمل وزیر نے پریس کانفرنس میں صحافیوں بتایا کہ کے پی حکومت نے کرونا وائرس پر قابو پانے کے لیے صوبے میں 15 مئی تک لاک ڈاؤن کی مدت میں توسیع کردی ہے، لاک ڈاون میں توسیع کے ساتھ ساتھ مویشی منڈی کھولنے کی اجازت بھی دے دی گئی ہے۔

صوبائی وزیر اجمل وزیر نے بتایا کہ مویشی منڈی سے متعلق ایس او پیز بنائی جائے گی جس پر سختی سے عمل درآمد کروایا جائے گا۔انہوں نے واضح کیا کہ تندور کی دکانیں اور دودھ دہی کی دکانیں شام 4 بجے کے بعد کھلی رہیں گی۔

پشاور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے اجمل وزیر نے کہا کہ کورونا سے شہید ہونے والے فرنٹ لائن ملازمین کو 70 لاکھ روپے کا پیکج دیا جائے گا۔
انہوں نے بتایا کہ صوبائی کابینہ نے کے پی پاور ٹرانسمیشن اینڈ گرڈ سسٹم کمپنی کے قیام کی منظوری دے دی ہے، صوبہ اپنا گرڈ اور ٹرانسمیشن نظام قائم کر سکے گا۔

اس کے علاوہ کے پی ایپیڈیمک کنٹرول اینڈ ایمرجنسی ریلیف آرڈیننس کے نفاذ کی منظوری بھی دے دی گئی ہے، آرڈیننس کے تحت متاثرہ افراد کو آئسولیشن میں رکھا جاسکے گا، وبا کی صورت میں اجتماعات پر پابندی لگائی جاسکے گی، تعلیمی ادارے، خاندان کے سربراہ زیر کفالت افراد کے متاثر ہونے کی اطلاع دینے کے پابند ہوں گے۔

اجمل وزیر نے بتایا کہ پبلک ٹرانسپورٹ، ریسٹورینٹس، ہوٹلز کے انچارج زیر کفالت افراد کے متاثر ہونے کی اطلاع دینے کے پابند ہوں گے، آرڈیننس کی خلاف ورزی پر سزائیں اور جرمانے بھی تجویز کیے گئے ہیں۔

وبا کی صورت میں عوام کو ریلیف دینے کے لیے اقدامات کو بھی قانونی تحفظ دیا گیا ہے، 6 ہزار سے زائد فیس وصول کرنے والے تعلیمی ادارے فیسوں میں 20 فیصد رعایت دیں گے، 6 ہزارسے کم فیسیں وصول کرنے والے 10 فیصد رعایت دیں گے۔

واضح رہے کہ اس سے قبل کرونا وائرس پر قابو پونے کے لیے وفاقی حکومت ملک بھر میں لاک ڈاون 9 مئی تک بڑھا چکی ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں