ماضی میں سی پیک کے معاملے پر صوبے کو اندھیرے میں رکھا گیا: وزیر اعلیٰ کے پی کے
The news is by your side.

Advertisement

ماضی میں سی پیک کے معاملے پر کے پی کے کو اندھیرے میں رکھا گیا: وزیر اعلیٰ محمود خان

پشاور: وزیر اعلیٰ کے  پی کے محمود خان کا کہنا ہے کہ خیبرپختونخوا میں سب قانون کے تابع ہیں.

ان خیالات کا اظہار انھوں نے کے پی کے کی سو روزہ کارکردگی کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا. ان کا کہنا تھا کہ میرٹ کی بالادستی کے لئے آزاد اور بااختیار ادارے قائم کئے.

انھوں‌ نے کہا کہ حکومتی سطح پر سزا و جزا کا قابل عمل قانون بنایا ہے، مستقبل کے چیلنجز کو سامنے رکھ کر حکمرانی کی بنیاد ڈالی. وزیراعلیٰ کے پی کے نے کہا کہ صوبے میں وسائل کے استعمال کے مؤثر انتظامات کئے ہیں، وزیراعلیٰ ہاؤس کے اخراجات 50لاکھ سے کم ہوکر6لاکھ روپے پر لے آئے ہیں.

انھوں نے مزید کہا کہ ہمیں 2013 میں عوام نے مینڈیٹ دیا، صوبے میں نظام کی بہتری کے لئے ترجیحات کا تعین کرلیا ہے، خود کو سب سے پہلے احتساب کےلئے پیش کیا.

وزیر اعلیٰ‌ کے پی کے نے کہا کہ ترقیاتی حکمت عملی کے لئے ٹی ڈی پی ایکٹ کے لئے ترامیم تجویز کی ہے، ماضی میں سی پیک کے معاملے پر صوبے کو اندھیرے میں رکھا گیا، اربوں روپے کے منصوبوں سے ہمارے صوبے کو نظراندازکیا گیا.

ان کا کہنا تھا کہ مغربی روٹ کی توسیع ،گلگت چترال روڈ کو سی پیک میں شامل کرنے کی تجویز کی، سی پیک کے تحت جوائنٹ وینچر کی منظوری دی ہے.


مزید پڑھیں: سی پیک میں نئے قبائلی اضلاع سے بھرتیاں کی جائیں گی: وزیرِ اطلاعات خیبر پختونخوا


انھوں نے کہا کہ صوبے کے تباہ حال انفرااسٹرکچر کی بحالی کے لئے یکساں حکمت عملی وضع کی ہے، بہترصنعت کاری، سیاحت، روزگار کے مواقع پیدا کرنے کے لئے اقدامات کئے ہیں، سوات موٹروے، بلین ٹری سونامی اور گومل زام ڈیم کے لئے رقم مختص کی ہے.

وزیراعلیٰ کے پی کے کا کہنا تھا کہ سب غریب کے لئے سوچیں کہ اس کے لیے کیا کیا جاسکتا ہے، پاکستان انشا اللہ ترقی ضرور کرے گا.

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں