The news is by your side.

Advertisement

راستے بند کرکےخیبر پختونخواہ کو بقیہ پاکستان سے کاٹ دیا گیا ہے،پرویز خٹک

صوابی : وزیراعلیٰ خیبر پختونخواہ پرویز ختک نے کہا کہ راستے بند کرکے پورے کے پی کے کو بقیہ پاکستان سے الگ کردیا گیا ہے،ساری عمرظالم و بربریت کے یہ تماشے دیکھتے گذری ہے.

تفصیلات کے مطابق وہ صوابی کے انٹر چینج پر کارکنان کے بڑے اجتماع سے خطاب کر رہے تھے انہوں نے وفاقی حکومت سے سوال کیا کہ کس قانون اور آئین کے تحت سڑکیں بند کی گئی ہیں اور ایک صوبے کو دوسرے صوبے سے جدا کیا گیا ہے۔

اسی سے متعلق : پرویز خٹک کا خیبرپختونخواہ اسمبلی کے حوالے سے اہم اعلان

انہوں نے کہا کہ عدلیہ کے فیصلوں کے دھجیاں بکھیری جا رہی ہیں اور پورے ملک سے اسلام آباد آنے والوں راستوں کو کنٹینر لگا کر بند کردیا گیا ہے یہ غیر آئینی عمل ہے۔

پرویز خٹک نے کہا کہ میں نے قانون پڑھا رہا ہے اور ساری عمر یہ تماشے دیکھے ہیں جب ظالم اور غاصب حکمراں عوام کو روکنے کے لیے ایسے اوچھے ہتھکنڈے استعمال کرتے ہیں۔

وزیر اعلیٰ خیبر پختونخواہ نے حکومت کو متنبہ کیا کہ اگر اسلام آباد جانے نہیں دیا تو کارکنان کے ردعمل کے ذمہ دار خود حکومت ہو گی تحریک انصاف نہیں ۔

انہوں نے پوچھا کہ کس قانو ن اور آئین تحت خیبر پختونخواہ کو باقی ملک سے کاٹا جا رہا ہے،خیبر پختونخواہ کے عوام کو محصور کیا جا رہا ہے،کرپشن کے خلاف اٹھنا ہوگا عوام نہ اٹھے تو سمجھوں گا کہ وہ چوروں کے حق میں ہیں۔

واضح رہے تحریک انصاف خیبر پختونخواہ کے کارکنان بڑی تعداد میں ہارون آباد پل پہنچ گئے ہیں اور کچھ دیر میں پرویز خٹک کا قافلہ بھی یہاں پہچ جائے گا اور پھر صوبہ پنجاب میں داخل ہویا جائے گا دوسری کارکنان کو روکنے کے لیے پنجاب پولیس کی بھاری نفری تعینات کردی گئی ہے۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں