The news is by your side.

Advertisement

خواتین کے لیے مختص پنک بسوں کا منصوبہ ناکام

پشاور: خیبر پختون خوا حکومت کا خواتین کے لیے مختص پنک بسوں کا منصوبہ کامیاب نہ ہو سکا۔

تفصیلات کے مطابق پنک بسوں کا منصوبہ ناکامی کے بعد کے پی حکومت نے پنک بسیں ہائیر ایجوکیشن کے حوالے کر دیں، محکمہ ہائیر ایجوکیشن کا کہنا ہے کہ 14 بسوں میں سے صوبے کے 12 بسیں گرلز ڈگری کالجز اور 2 بسیں مردان ویمن یونیورسٹی کو دی جا رہی ہیں۔

مختلف کالجز کے پرنسپلز کو معاون خصوصی ہائیر ایجوکیشن و اطلاعات کامران بنگش نے بسوں کی چابیاں حوالے کیں۔

کامران بنگش نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا دو اضلاع میں خواتین کو سفری سہولیات کے لیے بسیں چلانے کا منصوبہ شروع کیا گیا تھا، لیکن کچھ وجوہ پر یہ کامیاب نہ ہو سکا۔

انھوں نے کہا گرلز کالجز میں طالبات کو ٹرانسپورٹ کے مسائل تھے جس کو حل کرنے کے لیے ہم نے بسیں کالجز کو دینے کا فیصلہ کیا۔

پنک بسوں کا منصوبہ 2018 میں جاپان حکومت کے تعاون سے خواتین کے لیے شروع کیا گیا تھا، 14 پنک بسیں صرف خواتین کی سفری سہولیات کے لیے لائی گئی تھیں، مردان اور ایبٹ آباد میں پنک بسیں کچھ مہینے کے لیے چلائی بھی گئیں لیکن یہ سلسلہ کامیاب نہ ہو سکا۔

یہ منصوبہ ناکامی کے بعد بسیں تین سالوں تک مختلف اسٹینڈز میں کھڑی رہیں، جس کے باعث بسوں کی حالت خراب ہونے لگی تھی، محکمہ اعلیٰ تعلیم کی درخواست پر ان بسوں کو ٹرانس پشاور سے محکمہ ہائیر ایجوکیشن کے حوالے کیا گیا، اب یہ بسیں مختلف گرلز کالجز میں طالبات کی سفری سہولت کے لیے استعمال ہوں گی۔

کامران بنگش نے بتایا کہ اب ڈی آئ خان، مردان، اور نوشہرہ سمیت دیگر اضلاع کے کالجز ان بسوں سے مستفید ہوں گے، اور ایک ہفتے کے اندر یہ بسیں چلتی نظر آئیں گی۔

ان کا کہنا تھا کہ 45 بسوں کا آرڈر دے چکے ہیں، جو قبائلی اضلاع میں چلیں گی، بندوبستی اضلاع میں سال 20-21 میں 40 پروفیشنل کالجز بنانے جا رہے ہیں، صوبے میں 7 وکالت کے کالجز بھی بنیں گے، جس پر 80 کروڑ کی خطیر رقم خرچ کی جائے گی۔

انھوں نے بتایا کہ صوبے میں 30 کالجز کو ماڈل کالج بنا رہے ہیں، اور کسی کالج کی نج کاری نہیں کر رہے، کالج کی نج کاری کے حوالے سے حکومت کے خلاف پروپیگنڈا کیا جا رہا ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں