The news is by your side.

Advertisement

کشمیر پریمیئر لیگ، بھارت کی ہرشل گبز کو دھمکی، دفتر خارجہ پاکستان کی جانب سے مذمت

اسلام آباد: بھارت نے کشمیر پریمئیر لیگ میں شرکت پر سابق جنوبی افریقی کرکٹر ہرشل گبز کو دھمکی دی ہے، دفتر خارجہ پاکستان کی جانب سے کرکٹ کو سیاست کے لیے استعمال کیے جانے پر مذمتی بیان جاری کیا گیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق جنوبی افریقا کے سابق بلے باز ہرشل گبز نے ایک ٹوئٹ میں کہا ہے کہ بھارتی کرکٹ بورڈ (بی سی سی آئی) انھیں افتتاحی کشمیر پریمیئر لیگ میں شرکت سے روکنے اور پاکستان کے ساتھ اپنا سیاسی ایجنڈا بیچ میں لانے کی کوشش کر رہا ہے۔

ہرشل گبز کا کہنا ہے کہ بی سی سی آئی نے انھیں دھمکی دی ہے کہ اگر انھوں نے کے پی ایل میں شرکت کی تو انھیں بھارت میں کرکٹ سے متعلق کسی بھی معاملے کے حوالے سے داخل نہیں ہونے دیا جائے گا۔

انھوں نے کہا کہ بھارتی کرکٹ بورڈ اس معاملے میں غیر ضروری طور پر پاکستان کے ساتھ اپنا سیاسی ایجنڈا بیچ میں لا رہا ہے، اور مجھے کے پی ایل میں کھیلنے سے روکنے کی کوشش بلا جواز اور مضحکہ خیز ہے۔

خیال رہے کہ ہرشل گبز کشمیر پریمیئر لیگ کی فرنچائز اوورسیز واریئرز کا حصہ ہیں۔

ہرشل گبز کے ٹویٹ کے حوالے پاکستان کے دفتر خارجہ کے ترجمان زاہد حفیظ چوہدری نے بھارت کی جانب سے کرکٹ کھیل کو سیاسی بنانے پر مذمت کی، انھوں نے ٹوئٹ کرتے ہوئے کہا بھارت کی کرکٹ پر سیاست کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے، کشمیریوں کو کرکٹ کے بڑے ناموں کے ساتھ کھیلنے سے محروم کرنا افسوس ناک ہے۔

بعد ازاں ہرشل گبز نے ویب سائٹ ’اسپورٹس کیڑا‘ کو بتایا کہ انھیں دھمکی بی سی سی آئی کے سیکریٹری جے شاہ نے دی ہے، جے شاہ نے گریم اسمتھ کے ذریعے مجھے یہ پیغام بھیجا ہے۔

ادھر وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات پاکستان فواد چوہدری نے ٹویٹ میں رد عمل ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ پہلا موقع نہیں کہ مودی حکومت نے کرکٹ کو مذموم سیاست کی بھینٹ چڑھایا ہو، ہرشل گبز پر کشمیر لیگ میں حصہ نہ لینے کا دباؤ اس پرانی روش کا تسلسل ہے، ہم ان اقدامات کی شدید مذمت کرتے ہیں۔

خیال رہے کہ کے پی ایل کے پہلے ایڈیشن کا آغاز 6 اگست سے ہوگا جو 17 اگست تک جاری رہے گا، اس میں آزاد جموں و کشمیر کے شہروں کی نمائندگی کرنے والی 5 فرنچائزز حصہ لیں گی، جب کہ چھٹی فرنچائز کا نام اوورسیز واریئرز رکھا گیا ہے، جس میں بیرون ملک مقیم کشمیری شامل ہوں گے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں