خداد صلاحیتوں کا مالک کراچی کا نوجوان karachi boy turn his neck
The news is by your side.

Advertisement

خداداد صلاحیتوں کا مالک کراچی کا نوجوان

کراچی: شہر قائد سے تعلق رکھنے والا نوجوان کسی بھی درد اور تکلیف کے بغیر اپنی گردن 180 ڈگری کے زاویے پر گھمانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

تفصیلات کے مطابق دنیا بھر میں ایسی خداداد صلاحیتوں کے لوگ موجود ہیں جنہیں دیکھ کر آنکھیں ششدر رہ جاتی ہیں، کئی لوگ جسمانی فن دکھانے کے اس قدر ماہر ہوتے ہیں کہ انہیں دیکھ کر خود کو تکلیف محسوس ہونے لگتی ہے۔

کراچی سے تعلق رکھنے والا سمیر نامی نوجوان خداد صلاحیتوں کامالک ہے کیونکہ وہ اپنی گردن بغیر کسی تکلیف اور درد کے 180 ڈگری تک گھمانے کر پیچھے کے تمام مناظر دیکھنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

گھریلو حالات بہتر نہ ہونے کی وجہ سے سمیر نے اپنی پڑھائی کو خیر باد کیا اور اب وہ ایک ڈانس گروپ میں کام کررہا ہے، والدین کا اکلوتا بیٹا یومیہ اجرت کما کر گھر کی کفالت کرتا ہے۔

ڈیلی میل کے مطابق سمیر فی شو 800 سے 1400 روپے تک کماتا ہے، نوجوان کی خواہش ہے کہ اُسے اپنی صلاحیتوں کی بنیاد پر ہالی ووڈ فلموں میں کام کرنے کو موقع فراہم کیا جائے۔

نوجوان کا کہنا ہے کہ اُس نے 7 برس کی عمر سے ہی اپنی گردن گھمانے کی کوشش شروع کی، پہلی بار جب والدہ نے یہ کرتے دیکھا تو مجھے ڈانٹ کر تلقین کی کہ آئندہ نہیں ہونا چاہیے،  ابتدائی ایام میں تو کافی تکلیف اور درد ہوا تاہم اب بغیر کسی تکلیف کے باآسانی اپنی گردم مخالف سمت میں موڑ لیتا ہوں‘۔

سمیر کے والد کی عمر 49 سال ہے اور وہ حال ہی میں ہیٹ اسٹروک کا شکار ہوئے جس کی وجہ سے اُن کو نوکری سے ہاتھ دھونے پڑے جبکہ والدہ رخسانہ گارمنٹس فیکٹری میں ملازمت کرتی ہیں۔

والدہ کا کہنا ہے کہ جب اُن کے شوہر کی طبیعت خراب ہوئی تو تمام گھریلو ذمہ داریاں سمیر کے کاندھوں پر عائد ہوگئی، جس کی وجہ سے اُسے اپنی تعلیم تک کو خیرباد کہنا پڑا۔

انہوں نے کہاکہ میں چاہتی ہوں سمیر پڑھے تاکہ یہ اچھی منزل تک پہنچ سکے مگر ہماری مجبوری ہے کہ اس کے بغیر کوئی حل نہیں نکل سکتا۔

سمیر کا کہنا ہے کہ میں ابھی مزید ڈانس اور جمناسٹک سیکھنے کا خواہش مند ہوں تاکہ کسی اچھے مقام پر پہنچ کر اپنے اہل خانہ کے سارے خواب پورے کرسکوں۔

ویڈیو دیکھیں


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔ 

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں