The news is by your side.

Advertisement

کلبھوشن کیس: بھارتی وفد کی پاکستانی وکیل سے بداخلاقی

ہیگ: عالمی عدالت انصاف میں جاسوس کلبھوشن کیس کا مقدمہ لڑنے والے وکلاء اور بھارتی وفد کی پاکستانی وکیل سے بداخلاقی کا واقعہ سامنے آیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق عالمی عدالت انصاف (آئی سی جے) میں پاکستان سے سزا یافتہ بھارتی جاسوس اور دہشت گرد کلبھوشن یادیوکے کیس کی سماعت ہوئی جس میں بھارتی وکیل پاکستان کے سوالوں کا جواب نہیں دے سکے۔

پاکستانی وکیل انور منصور خان کلبھوشن کیس لڑنے والے بھارتی وفد سے مصافحہ کرنے کی کوشش کی تو انہوں نے بداخلاقی کا مظاہرہ کیا اور ہاتھ ملانے کے بجائے اپنے دونوں ہاتھ جوڑ کر نشست پر کھڑے ہوگئے۔

سماعت کے دوران کیا ہوا؟

ہیگ میں قائم عالمی عدالت میں بھارت کی جانب سے دائر کردہ کلبھوشن یادیو کیس میں آج کی سماعت مکمل ہو گئی، بھارتی وکیل نے عدالت میں اپنے دلائل پیش کیے۔

مزید پڑھیں: کلبھوشن کیس: عالمی عدالت میں بھارتی وکیل پاکستان کے سوالوں کا جواب نہ دے سکا

اطلاعات کے مطابق عدالت میں بھارت کی جانب سے کلبھوشن یادیو کیس میں واویلا کیا گیا، بھارتی سینئر وکیل ہریش سالوے دلائل کی بہ جائے مفروضے بیان کرتا رہا۔

بھارتی وکیل نے دہشت گرد کلبھوشن کا کیس فوجی عدالت میں چلنے کا نکتہ اٹھایا تاہم وہ عدالت میں پاکستان کے سوالوں کا جواب نہیں دے سکا۔

قبل ازیں عالمی عدالت انصاف کے 15 رکنی بینچ نے یادیو کیس کی سماعت کی، ججز کے بینچ میں ایک بھارتی جج دلویر بھی موجود تھا۔

واضح رہے کہ آج کا دن بھارتی وکلا کو اپنے دلائل پیش کرنے تھے، جب کہ منگل 19 فروری کو پاکستان جوابی دلائل دے گا، 20 اور 21 فروری کو عدالت کیس سے متعلق غور و خوض کرے گی، یہ سماعت 4 دن جاری رہے گی۔

یہ بھی پڑھیں: بھارتی جاسوس کے کیس سے متعلق مکمل تفصیلات

پاکستان کی جانب سے 6 سوالات اٹھائے گئے ہیں، جن میں سے سرِ فہرست یہ سوال ہے کہ دہشت گرد کلبھوشن نیوی کی ملازمت سے کب ریٹائر ہوا، اس کو بھارت نے مسلمان نام سے پاسپورٹ کیوں بنا کر دیا جس پر اُس نے 17 مرتبہ بھارت کا سفر کیا۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں