The news is by your side.

Advertisement

این اے 120: کلثوم نواز کے کاغذاتِ نامزدگی پر 10 اعتراضات دائر

لاہور:کلثوم نوازکےکاغذات نامزدگی پر10اعتراضات سامنےآگئے‘ نواز شریف کے ٹیکس ریٹرن‘ اقامہ اور ملکیتی گھر میں موجود سامان نہ ظاہر کرنے سمیت مختلف چیزوں پراعتراض دائرکیا گیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق نواز شریف کی نا اہلی کے بعد خالی ہونے والی این اے 120 کی نشت پر ہونے والے ضمنی انتخابات کے لیے کلثوم نواز کی جانب سے داخل کردہ کاغذات پر 10 اعتراضات جمع کرائے گئے ہیں‘ امیدواروں کےکاغذات نامزدگی کی جانچ پڑتال15سے17اگست تک ہوگی۔

اعتراضات میں کہا گیا ہے کہ کلثوم نوازنے5جون 2012سے 4جون2015تک اقامہ لیا‘ کاغذات ِنامزدگی میں شامل ٹیکس ریٹرن میں کمپنی سےتنخواہ کاذکر بھی نہیں کیا گیا۔

دائر کردہ درخواستوں میں کہا گیا ہے کہ کلثوم نوازنےاثاثوں میں تفصیلات نہ بتاکرپردہ پوشی کی‘ کلثوم نوازنےکاغذات نامزدگی کےہمراہ دستخط کےبغیرنوٹ تحریرکیا۔

یہ بھی کہا گیا ہے کہ کلثوم نوازنےمری کےہال روڈپر5کنال کاگھرملکیت ظاہرکیا لیکن گھرکےسامان اوردیگراشیاکےوجودسےانکارکرکےحقائق چھپائے۔موبائل،گھڑی دیگرذاتی ملکیت کےوجودسےانکارحقائق کی پردہ پوشی ہے۔

کلثوم نوازنےویلتھ ٹیکس ریٹرن میں اثاثےظاہرنہ کرکےحقائق چھپائے۔حسین نوازکےمطابق2جائیدادوں کی ٹرسٹی مریم،ایک کی کلثوم نوازہیں۔ یہ بھی مطالبہ کیا گیا ہے کہ کلثوم نوازکی ٹرسٹ ڈیڈطلب کرکےدیکھاجائے کہ آیا وہ جعلی ہےیااصلی ہے۔


پاکستان دو لخت ہوا، ڈرتا ہوں‌ پھر کوئی حادثہ نہ ہوجائے، نواز شریف


جائیدادکی بینفشری کاذکرکاغذات نامزدگی میں نہ کرکےحقائق چھپائے‘ 30جون2016کی ریٹرن میں ذاتی سامان سےانکار پردہ پوشی ہے۔ دائر کردہ درخواست میں یہ بھی کہا گیا کہ کلثوم نوازنےشوہرکی ریٹرن کومن وعن تسلیم کرکےحقائق چھپائے ہیں لہذا ان کے کاغذاتِ نامزدگی مستر د کیے جائیں۔

یاد رہے کہ سپریم کورٹ آف پاکستان نے گزشتہ ماہ سابق وزیراعظم نواز شریف کو پاناما پیپرز کے کیس میں نا اہل قرارد یا تھا جس کے بعد وہ اپنے عہدے پر برقرار نہیں رہ سکتے تھے۔ جس کے بعد مسلم لیگ ن نے شاہد خاقان عباسی کو وزیراعظم منتخب کرلیا تھا۔

سابق وزیراعظم کی نا اہلی کے سبب حلقہ این اے 120 سے ان کی پارلیمنٹ کی نشست بھی خالی ہوگئی جس پر ضمنی انتخابات 45 دن کے اندر ہوں گے۔ مسلم لیگ ن کی روایتی حریف پاکستان تحریکِ انصاف نے اس نشست پر ڈاکٹر یاسمین کو میدان میں اتارا ہے۔


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی وال پر شیئر کریں۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں