The news is by your side.

Advertisement

کویت میں روزگار کیلئے مقیم غیرملکیوں کیلئے بڑی خبر

کویت سٹی :کویت میں روزگار کی غرض سے آئے ہوئے  غیر ملکیوں کی ترسیلات پر ٹیکس عائد کرنے سے کویت کی مالیاتی اور مالی استحکام پر منفی اثر پڑے گا۔

تفصیلات کے مطابق حکومت کی خصوصی ٹیم کے ذریعہ کئے گئے ایک مطالعہ سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ کویت سے غیرملکیوں کی ترسیلات گزشتہ سال جی ڈی پی کا 12.9 فیصد تھی۔

کویت سے باہر سب سے زیادہ ترسیلات بھیجنے میں بھارتیوں کا پہلا نمبر رہا جبکہ اس کے بعد مصر کا نمبر آتا ہے۔ مطالعہ کی سفارش غیر ملکیوں کی ترسیلات پر ٹیکس عائد کرنے کی پارلیمانی تجویز پر کی گئی۔ کوئی بھی ایسا خلیجی ملک ہے جو غیر ملکی منتقلی یا فنڈز پر براہ راست ٹیکس عائدنہیں کرتا۔

مطالعہ نے متنبہ کیا کہ اس طرح کے ٹیکس عائد کرنے سے مالیاتی اور مالی استحکام پر منفی اثر پڑے گا جس سے غیرملکی غیر رسمی ذرائع (ہنڈی) سے رقم کی منتقلی کا سہارا لیں گے جس سے منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کی مالی معاونت کا مقابلہ کرنے کا خطرہ ہوگا جس سے کویت کی ساکھ خطرے میں پڑ جائے گی۔

مقامی روزنامہ کی رپورٹ کے مطابق ترسیلات پر ٹیکس لگانے کی تجویز کا مجموعی معیشت پر منفی اثر پڑتا ہے اور یہ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کے لیے اس کی ذمہ داری سے متصادم ہوگا کیونکہ کویت اس بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کا ایک رکن ہے اور اس کے مالیاتی اور تجارتی مرکز کے تصور کو خطرے میں ڈالے گا۔

سال 2020 کے اعداد و شمار کے مطابق بھارت بھیجی جانے والی ترسیلات 29.5 فیصد کے ساتھ پہلے اور مصر 24.2 فیصد کے ساتھ دوسرے نمبر پر ہے۔

بنگلہ دیش 9 فیصد کے ساتھ تیسرے اور فلپائن 4.9 فیصد کے ساتھ چوتھے نمبر پر ہے۔ پاکستان 4.3 فیصد، سری لنکا 2.1 فیصد، اردن 1.9 فیصد، ایران 1.3 فیصد، نیپال 1.2 فیصد اور لبنان 0.8 فیصد کے ساتھ آخری نمبروں پر رہا۔

Comments

یہ بھی پڑھیں