The news is by your side.

کویت 30 ہزار سے زائد نئے ورک ویزے جاری کرچکا

کویت کی پبلک اتھارٹی برائے افرادی قوت کے مطابق گزشتہ سال ایک ملین سے زائد ورک پرمٹ کی تجدید اور 30 ہزار نئے ورک ویزے جاری کیے جاچکے۔

کویت کی پبلک اتھارٹی برائے افرادی قوت کے انفارمیشن سسٹم سینٹر میں آپریشنز ڈیپارٹمنٹ کی سربراہ بشریٰ سلیم نے ایک مقامی ٹیلی ویژن کو انٹرویو دیتے ہوئے بتایا کہ پی اے ایم نے پہلی بار 30,000 پرمٹ جاری کرنے کے علاوہ "آشال” الیکٹرانک سسٹم کے ذریعے گزشتہ سال کے دوران 1.27 ملین رہائشیوں کے کام کے اجازت ناموں ورک پرمٹ (اقاموں) کی تجدید کا انتظام کیا ہے اور یہ اتھارٹی کی جانب سے پیش کی جانے والی خدمات کی میکانائزیشن کا 90 فیصد تک ہے جس میں 174 الیکٹرانک خدمات ہیں۔

اے آروائی نیوز براہِ راست دیکھیں live.arynews.tv پر

بشریٰ سلیم نے مزید بتایا کہ کام کی نئی فائلوں کے اجرا کے لیے ایک نئے طریقہ کار پر عمل کیا جائے گا جو وزارت تجارت کے ساتھ منسلک ہو کر تمام سرکاری اداروں کے ساتھ رابطے کو مکمل کرنے اور عرب و خلیجی ممالک کے ساتھ روابط شروع کرنے کی کوششوں کے ایک حصے کے طور پر کیا جائے گا تاکہ فراڈ کو روکنے میں اپنا کردار ادا کیا جا سکے، اس وقت 20 سرکاری اداروں کے ساتھ لنک کی نشاندہی ہوچکی ہے۔

اسی حوالے سے اتھارٹی کے محکمہ روزگار میں نیشنل ایمپلائمنٹ پلیٹ فارم پروجیکٹ کے ڈائریکٹر بدرہ المطیری نے کہا کہ اتھارٹی ان قومی کارکنوں کو قابل بنانے کے لیے اقدامات کر رہی ہے جو نجی شعبے میں ملازمتوں کے لیے درخواست دینے سے گریزاں ہیں۔

المطیری نے کہا کہ قومی ملازمت سے متعلق تمام خدمات کو پلیٹ فارم کے ذریعے خودکار کر دیا گیا ہے، چاہے وہ "گریجویٹ انعام، بے روزگاری انشورنس، ڈیٹا اپ ڈیٹ، ملازمت کی تلاش” یا دیگر مالی معاونت کی خدمات کے حوالے سے ہوں۔

ان کامزید کہنا تھا کہ محکمہ افرادی قوت نے گزشتہ جون سے اگست کے آخر تک دوپہر 11 بجے سے شام 4 بجے تک کام کرنے پر پابندی کے فیصلے کی خلاف ورزی کے حوالے سے مختلف سائٹس کا معائنہ بھی کیا ہے۔

اتھارٹی کے مطابق21 اگست سے 20 مختلف سائٹس کے دوران اس فیصلے پر عمل نہ کرنے والی کمپنیوں کے خلاف 20 شکایات ریکارڈ کی گئیں، جب کہ اس معائنے کے دوران 450 نوٹیفکیشن بھی جاری کیے گئے ہیں۔ پی اے ایم نے بتایا کہ جون کے آغاز سے اب تک 360 کمپنیوں کی اس نوعیت کی خلاف ورزیاں رپورٹ ہوئی ہیں جب کہ معائنہ کی گئی سائٹس کے بعد یہ تعداد 420 تک پہنچ گئی ہے

انہوں نے نشاندہی کی کہ خلاف ورزی کرنے والی سائٹس پر کارکنوں کی کل تعداد 600 سے تجاوز کر گئی ہے جبکہ ہاٹ لائن کے ذریعے موصول ہونے والی شکایات کی تعداد 20 تک پہنچ گئی ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں