The news is by your side.

Advertisement

کویت میں مقیم تارکین وطن کے لیے خوشخبری

کویت سٹی: کویتی وزارت داخلہ نے ملک میں مقیم تارکین وطن کو اقامے میں بچوں کا اندراج کروانے کے لیے مہلت دے دی۔

کویتی جریدے میں شائع رپورٹ کے مطابق کویتی وزارت داخلہ کا کہنا ہے کہ 8 ہزار سے زائد غیرملکی بچے بغیر اندراج کے کویت میں رہائش پذیر ہیں، ان بچوں کے والدین نے پیدائش کے بعد ان کا اندراج نہیں کرایا، کویتی قانون کے بموجب یہ بچے نامعلوم کے خانے میں چلے گئے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق سیکیورٹی ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ کویتی حکومت اقامہ قوانین کی خلاف ورزی کرنے والوں سے خود کو قانون کے دائرے میں لانے کی ہدایت کررہی ہے۔

غیر قانونی تارکین کے بچوں کے بارے میں حکام کی جانب سے یکم دسمبر 2020 سے شروع ہونے والی نئی مہلت سے فائدہ اٹھانے کی تاکید کی گئی ہے۔

کویتی وزارت داخلہ نے توجہ دلائی ہے کہ وہ جلد ہی وزارت صحت کے تعاون سے بچوں کی رجسٹریشن خودکار سسٹم کے تحت کرانے کا انتظام کرے گی ۔

اس کے تحت وزارت صحت یا پرائیویٹ سیکٹر کے کسی بھی اسپتال میں بچے کی پیدائش پر اس کا اندراج خودکار نظام کے تحت وزارت داخلہ کے ڈیٹا میں ہو جائے گا۔

رپورٹ کے مطابق وزارت داخلہ کی جانب سے بچوں کے اندراج کے حوالے سے جاری کیا جانے والے نئے منصوبے کے تحت بچے کی پیدائش سے 4 ماہ کے اندر اقامے میں اندراج کرانا لازمی ہوگا بصورت دیگر4 دینار ہر روز کے حساب سے جرمانہ عائد کیا جائے گا۔

کویتی میڈیا کے مطابق سابق قانون میں جرمانہ یومیہ نہیں بلکہ 600 دینار سے زیادہ نہیں ہوتا تھا جس کے لیے مدت کا بھی کوئی تعین نہیں تھا اسی لیے بعض غیر ملکیوں نے بچوں کو اس وقت تک اقامہ میں شامل نہیں کرایا جب تک انہیں کوئی خاص مجبوری لاحق ہوئی۔

کویتی میڈیا کا کہنا ہے کہ بہت سارے ایسے غیر ملکی ریکارڈ پر آئے ہیں جنہوں نے اپنے بچوں کا اندراج نہیں کرایا اور اسپتال سے برتھ سرٹیفکیٹ حاصل کرنے پر ہی اکتفا کیا، تارکین وطن اپنے بچوں کے اندراج سے اس لیے گریز کرتے رہے ہیں کہ وہ اقامہ فیس اور ہیلتھ انشورنس کی فیس بچانا چاہ رہے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق بعض غیر ملکی ایسے بھی ہیں جو غیر قانونی طور پر رہ رہے ہیں، انہوں نے اس ڈر سے اپنے بچوں کا اندراج نہیں کرایا کہ کہیں ایسا کرنے پر گرفتار نہ کر لیے جائیں۔

خیال رہے کہ ابھی تک کویت میں سرکاری و نجی اسپتالوں میں پیدا ہونے والے بچوں کے اندراج کا خودکار نظام نہ ہونے کی وجہ سے یہ مسئلہ پیدا ہوا ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں