The news is by your side.

Advertisement

کویت نے غیر ملکیوں کو وارننگ جاری کردی

کویت سٹی: کویت نے اقامے کی خلاف وزری کرنے والے غیر ملکیوں کو خبردار کردیا ہے۔

بین الاقوامی میڈیا رپورٹ کے مطابق کویت کی وزیر داخلہ کی جانب سے اقامے کی خلاف ورزی کرنے والے تارکین وطن کو متنبہ کیا گیا ہے کہ ایسے افراد جو کویت میں رہائش پزیر ہیں اور اپنی رہائش تبدیل کرنے کے خواہشمند ہیں، وہ فوری طور پر شعون کے شعبے سے رابطہ کریں اور جرمانہ کی رقم ادا کریں جو یکم جنوری دو ہزار بیس سے دسمبر دو ہزار بیس تک رکھی گئی ہے، اس طریقہ کار پر عمل کرتے ہوئے وہ قانونی اقامے کے حقدار بن سکتے ہیں۔

کویتی وزارت داخلہ کے مطابق ایسے افراد جو کویت چھوڑ کر اپنے ملک جانا چاہتے ہیں، ان کے لئے ضروری ہے کہ پہلے جرمانے کی رقم ادا کریں تاکہ انہیں سفر کی اجازت مل سکے، یا پھر حکومت کی مقرر کردہ وقت میں اپنے ملک واپس چلے جائیں، تاکہ مستقبل میں وہ دوبارہ کویت آئیں تو انہں کسی قسم کی پریشانی نہ ہوں۔

وزارت داخلہ کی جانب سے واضح کیا گیا ہے کہ غیر قانونی طور پر رہنے والے افراد اپنے معاملات درست کرلیں ورنہ ان کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی، انہیں کویت بدر بھی کیا جاسکتا ہے اور پھر کبھی کویت میں داخل نہیں ہونے دیا جائے گا۔وزارت داخلہ نے ایسے تارکین وطن جو عارضی اور خود مختار قابل تجدید اقامہ کے حامل ہیں ان کے لئے بھی احکام جاری کئے ہیں۔

کویتی وزارت داخلہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ایسے افراد جن کے اقامے کی میعاد تیس نومبر کو ختم ہورہی ہے وہ اقامہ ختم ہونے سے قبل اپنے ملک واپس چلے جائیں۔

دوسری شرط میں کہا گیا ہے کہ وہ شرائط و قوانین کے تحت اپنی رہائشی حالت درست کرلیں۔

یہ بھی پڑھیں:  کویت: اقامہ ہولڈرز کو بڑا ریلیف مل گیا

وزارت داخلہ کی جانب سے واضح ہدایات جاری کیں گئیں ہیں کہ ان دونوں شرائط پر عمل نہ کرنے والے افراد کے خلاف مکمل قانونی کارروائیاں کی جائیں اور انہیں ملک بدر کردیا جائے۔

واضح رہے کہ چند روز قبل کویت نے تارکین وطن سے متعلق اہم فیصلہ کیا تھا،بین الاقوامی میڈیا کے مطابق وہ تارکین وطن جو کویت میں رہائشی اجازت نامہ ملنے کے بعد مخصوص وقت کے اندر اپنا سول شناختی کارڈ حاصل کرنے میں ناکام رہے ، ان پر پبلک اتھارٹی برائے سول انفارمیشن (پی اے سی آئی) کی جانب سے بیس کویتی دینار جرمانہ عائد کیا گیا ہے، ان میں کویت میں سرکاری اداروں میں دوبارہ کام شروع کرنے والے نومولود بچوں کے کفیل بھی شامل ہیں۔

Comments

یہ بھی پڑھیں