The news is by your side.

Advertisement

کویت میں مقیم غیر ملکیوں کے لئے اچھی خبر

کویت سٹی: کویت کی مقامی عدالت نے پبلک اتھارٹی برائے افرادی قوت کی جانب سے 60 سال یا اس سے زائد عمر کے غیر گریجویٹ تارکین وطن کے معاملے پر جاری کئے گئے فیصلوں پر ٹھنڈا پانی ڈال دیا ہے۔

روزنامہ القبس کے مطابق ایپل کورٹ نے انتظامیہ کے فیصلہ نمبر 27 کو کالعدم قرار دے دیا ہے، جس میں کہا گیا تھا کہ 500 دینار کے عوض پرائیوٹ ہیلتھ انشورنس اور 250 دینار بطور اقامہ فیس کی تجدید کی ادائیگی کو لازمی ہوگی

رپورٹ کے مطابق یہ مسئلہ دو سالوں سے حل طلب تھا جبکہ پبلک اتھارٹی برائے افرادی قوت 45 دن پہلے ہی اس فیصلے پر پہنچا تھا کہ اس زمرے کے تارکین وطن کو اپنے پرمٹ کی تجدید صرف ایپل کورٹ کے لئے کرنے کی اجازت دی جائے تاکہ نچلی عدالت کے فیصلوں کو برقرار رکھا جاسکے۔

ایپل کورٹ کا یہ فیصلہ کویت انٹر پرینیور ایسوسی ایشن کے ممبران کے حق میں اپنی نوعیت کا چوتھا فیصلہ ہے، اس سے قبل افرادی قوت کے جاری کردہ انتظامی فیصلے کو منسوخ کرنے کے لئے "3 فرسٹ ڈگری” عدالتی حکام نے حاصل کئے تھے۔

یہ بھی پڑھیں: ‘کویت کی آئل کمپنیوں میں ہزاروں ملازمتوں کی آسامیاں

ایپل کورٹ کے فیصلے نے قانون کے تحت 56 دیگر آرٹیکلز کو منسوخ کرنے کے علاوہ ورک پرمٹ جاری کرنے کے درمیان امتیازی سلوک ختم کرنے کا بھی حکم جاری کیا۔

کویتی تاجروں نے اس فیصلے کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ مملکت میں شہریوں کے کام کرنے کے لئے محدود شرائط کا وجود نوجوانوں کی حمایت اور انہیں بااختیار بنانے میں مددگار ثابت ہوگا۔

تاجروں کا موقف تھا کہ ساٹھ سال اور اس سے زائد عمر کے غیر گریجویٹ تارکین وطن کے لئے ہیلتھ انشورنس کی شرائط نے مارکیٹ کو الجھا کر رکھ دیا تھا تاہم عدالتی فیصلے سے ابہام کا خاتمہ ہوگیا۔

Comments

یہ بھی پڑھیں