جمعہ, جون 21, 2024
اشتہار

کرغزستان میں پاکستانی طلبہ پر تشدد، پس منظر کیا ہے؟ تازہ ترین صورتحال

اشتہار

حیرت انگیز

کرغزستان کے دارالحکومت بشکیک کے ہاسٹل میں مقیم پاکستانی طلباء و طالبات پر اس وقت بڑی مشکل آن پڑی جب ان پر ڈنڈوں لاٹھیوں سے لیس مقامی انتہا پسندوں نے اچانک حملہ کردیا۔

یہ پُرتشدد واقعہ کب کیسے اور کیوں پیش آیا؟ اس حوالے سے ذرائع کا کہنا ہے کہ 17 مئی کو پیش آنے والے واقعے کا تعلق 13 مئی کو ہونے والے ایک واقعے سے ہے۔

گزشتہ روز 17مئی کو ہونے والے واقعے میں شام کے وقت تقریباً 300سے زائد مقامی طلبہ نے غیر ملکی طلباء کے ہاسٹل پر دھاوا بول دیا جس کے نتیجے میں 29 سے زائد طلبہ شدید زخمی حالت میں اسپتال پہنچائے گئے۔

- Advertisement -

بشکیک

بشکیک کے جن ہاسٹلز پر دھاوا بولا گیا ان میں زیادہ تر پاکستان بھارت اور بنگلہ دیش کے طلباء رہائش پذیر ہیں۔

پس منظر کے حوالے سے ذرائع کا کہنا ہے کہ 13 مئی کو ایک کیفے میں بیٹھے چند مقامی اور غیر ملکی طلباء میں کسی بات پر تلخ کلامی ہوئی جو بعد ازں باقاعدہ لڑائی کی صورت اختیار کرگئی۔

اس واقعے میں مقامی باشندوں کی جانب سے یہ دعویٰ کیا گیا کہ غیر ملکی طلبہ نے مقامی طلبہ پر تشدد کیا اور اس واقعے کی ویڈیوز سوشل میڈیا پر بھی وائر ہوئیں۔

بعد ازاں گزشتہ جمعہ کی رات متعدد شہری سڑکوں پر نکل آئے اور پولیس پر الزام عائد کیا کہ وہ لڑائی میں ملوث غیرملکی طلبہ سے نرمی برت رہی ہے جس کے برعکس پولیس کا کہنا ہے کہ لڑائی کی رپورٹس موصول ہونے کے بعد انہوں نے 3 افراد کو حراست میں لیا تھا۔

اس کے بعد ان مشتعل افراد نے میڈیکل یونیورسٹی کے ہاسٹلز پر حملہ کردیا جس میں پاکستانی، بھارتی اور بنگلہ دیشی طلبہ رہتے ہیں، ان مشتعل افراد نے لڑکوں کے ہاسٹل کے ساتھ ساتھ لڑکیوں کے ہاسٹل پر بھی پرتشدد حملہ کیا۔

ایک ہاسٹل بشکیک میں جبکہ دیگر ہاسٹلز شہر سے 25 کلومیٹر کے فاصلے ہیں جہاں انتہا پسندوں نے وحشیانہ حملہ کیا۔

اس حوالے سے صدر اسٹوڈنٹس کونسل ایشیئن میڈیکل انسٹی ٹیوٹ کرغزستان حسن شاہ آریانی نے اے آر وائی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ کل سے ہم سب خوف کے باعث جاگے ہوئے ہیں اور اب تک کسی قسم کی یقین دہانی یا اقدامات نہیں کیے گئے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ پولیس کی موجودگی میں مشتعل افراد کی پرتشدد کارروائیوں کے بعد طلبہ کا اعتماد مکمل طور پر اٹھ چکا ہے اور وہ مزید خوف اور دہشت کا شکار ہیں حکومتی سطح پر بھی کوئی مدد نہیں کی جارہی۔

مجموعی طور پر صورتحال یہ ہے سارے ہاسٹلز میں محصور ہیں کھانے پینے کا سامان بھی کرم ہو رہا ہے باہر جا نہیں سکتے اور باہر کیا ہورہا ہے اس کا بھی علم نہیں ہے۔

واضح رہے کہ کرغزستان کے تعلیمی ادارے ایم بی بی ایس کی تعلیم کے لیے طلبہ میں کافی مقبول ہیں یہاں میڈیکل کی معیاری تعلیم یورپ اور امریکا کی جامعات کے مقابلے میں انتہائی کم فیس ادا کرکے حاصل کی جا سکتی ہے۔

کرغزستان کی جامعات میں تعلیم کے حصول کی ایک اور بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ معیاری تعلیم کی وجہ سے ان یونیورسٹیز کی ڈگری کو عالمی ادارہ صحت سمیت عالمی سطح پر تسلیم کیا جاتا ہے۔

Comments

اہم ترین

ویب ڈیسک
ویب ڈیسک
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

مزید خبریں