The news is by your side.

Advertisement

نیند کی کمی انسانی اور جسمانی صحت کے لیے نقصان دہ ہے، تحقیق

لندن: ماہرین نے بہت دیر تک جاگنے والوں کو متنبہ کیا ہے کہ کم سونے سے دماغ کی کام کرنے کی صلاحیت بہت بری طریقے سے متاثر ہوتی ہے اور اس سے بیماریاں بھی جنم لیتی ہیں۔

تفصیلات کے مطابق نیند کی کمی سے متعلق برطانوی ماہرین نے تحقیق کی جس کے دوران یہ نتیجہ سامنے آیا کہ روزانہ 7 گھنٹے سے کم نیند جسمانی اور ذہنی کارکردگی پر اثر انداز ہوتی ہے۔

ماہرین کے مطابق کم سونے والے افراد کا مدافعتی نظام بری طریقے سے متاثر ہوتا ہے جس کے بعد وہ اکثر بیمار رہتے ہیں اور اُن کے دماغ کے کام کرنے کی صلاحیت بھی متاثر ہوتی ہے۔

مزید پڑھیں: سوشل میڈیا پرسکون نیند کا دشمن قرار

تحقیقاتی ماہرین کا کہنا ہے کہ جو لوگ مسلسل 20 گھنٹے تک جاگتے رہتے ہیں وہ کچھ وقت کے بعد سوچنے سمجھنے کی صلاحیت سے  محروم ہوجاتے ہیں اور اُن کا دماغ ماؤف ہوجاتا ہے۔

طبی ماہرین  کا کہنا ہے کہ کوئی بھی شخص نیند کی کمی کا شکار  اُس وقت ہوتا ہے جب اعصابی طور پر وہ پرسکون نہ ہو اور اُسے پریشانیوں کا سامنا ہو۔

ماہرین نے مشورہ دیا ہے کہ اعصاب کو پرسکون بنانے کے لیے چند دماغی و جسمانی ورزشیں کی جاسکتی ہیں علاوہ ازیں ہلکی غذائیں استعمال کرنا بھی معاون ثابت ہوتا ہے۔

اسے بھی پڑھیں: مکمل نیند کامیاب اور خوشحال زندگی کا راز

اسی سے متعلق: پرسکون نیند کے لیے 5 غذائیں

طبی ماہرین کے مطابق اگر تجویز کردہ غذائیں شام یا رات سونے سے قبل استعمال کرلی جائیں تو آپ اچھی اور بھرپور نیند سو سکتے ہیں۔

قبل ازیں برطانیہ کے طبی ماہرین نے متنبہ کیا تھا کہ ماؤں کی کم یا کچی نیند بچوں پر اثر انداز ہوتی ہے جس کے باعث اُن کی نشوونما بری طریقے سے متاثر ہوتی ہے اور وہ معاشرے میں عام لوگوں کے مقابلے میں پیچھے رہ جاتے ہیں۔

اسے بھی پڑھیں: ماؤں کی کم نیند بچوں کی نشوونما کو متاثر کرتی ہے، تحقیق

برطانوی ماہرین نے حالیہ تحقیقاتی رپورٹ میں انکشاف تھا کہ جو مائیں بے خوابی کا شکار ہوتی ہیں اُن کے بچوں کی نشوونما اور دماغی صحت بری طریقے سے متاثر ہوتی ہے۔  تحقیق کے دوران ماہرین نے کم نیند کی بیماری میں مبتلا ماؤں اور اُن کے بچوں کی صحت کا جائزہ لیا جس میں یہ بات سامنے آئی کہ بچوں کے سونے کا معاملہ خاندانی نظام کے تحت چلتا ہے۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں، مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کے لیے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں