The news is by your side.

Advertisement

لاہور دھماکا: ’ابصار گود میں تڑپٹا رہا، آخر میں لاش تھمادی‘

لاہور کے انار کلی بازار میں ہونے والے دھماکے میں 9 سالہ بچہ ابصار بھی زندگی کی بازی ہار گیا، ماموں اسپتال انتظامیہ کی نااہلی پر آبدیدہ ہوگئے۔

اے آر وائی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے بچے ابصار کے ماموں نے روتے ہوئے بتایا کہ دھماکے میں بھانجا شدید زخمی تھا، وہ میری گود میں سانسیں لے رہا تھا میں اپنے بچے کو بچا نہیں سکا، اسپتال انتظامیہ نے کہا ادھر لے جاؤ پھر کہا گیا دوسری طرف لے جاؤ۔

ماموں نے بتایا کہ بروقت امداد ہوتی تو میرا بچہ بچ جاتا یہاں بے حس لوگ موجود ہیں، کسی نے مدد نہیں کی میں اپنے بچے کو اٹھا کر بھاگتا رہا۔

انہوں نے کہا کہ میں کراچی سے آیا تھا مجھے تو یہاں اسپتالوں کا بھی معلوم نہیں تھا کسی طرح اسپتال پہنچا تو انہوں نے کہا بچہ وارڈ میں لے کر جائیں پھر کہا گیا دوسری طرف لے کر جائیں اسی اثنا میں بھانجے نے میری گود میں تڑپٹا رہا اور آخر میں اس کی لاش تھما دی گئی۔

متوفی کے نانا نے بتایا کہ ابصار کی والدہ کراچی کے علاقے کورنگی کی رہائشی تھیں شادی کے بعد مظفر آباد منتقل ہوئی تھیں، ابصار نانا نانی سے ملنے کے لیے کراچی آرہا تھا میں نے اس کے لیے سائیکل خریدی تھی۔

نانی نے بھی نواسے کی موت پر شدت غم سے نڈھال ہیں انہوں نے کہا کہ ہنستا کھیلتا بچہ چلا گیا میری بیٹی کیسے صبر کرے گی۔

واضح رہے کہ لاہور کی انار کلی بازار میں ہونے والے دھماکے میں 9 سالہ بچے سمیت 2 افراد جاں بحق اور 25 افراد زخمی ہوئے جبکہ زخمیوں میں حالت تشویش ناک بتائی گئی ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں