لاہور: پولیس نے 3نوجوانوں کی خودکشی کے بعد ایف آئی اے اور پاکستان ٹیلی کام اتھارٹی سے مطالبہ کیا ہے کہ آن لائن ویڈیو گیم پب جی کے آئی پیز کو بلاک کیا جائے۔
تفصیلات کے مطابق آن لائن ویڈیو گیم پب جی سے مبینہ خود کشیوں کے معاملے پر پولیس نے پی ٹی اے اور ایف آئی اے کومراسلہ جاری کردیا، سی پی او لاہور ذوالفقار حمید نے کہا گیم کی وجہ سے ابتک 3نوجوان خودکشی کر چکے ہیں، ایف آئی اے اور پاکستان ٹیلی کام اتھارٹی گیم کے آئی پیز کو بلاک کرے، تینوں کیسز کی تفصیلات متعلقہ اداروں کو فراہم کر دی گئیں۔
خیال رہے پب جی ایک ایسی آن لائن گیم ہے، جو اب تک کئی زندگیاں نگل چکی ہیں، یہ ملٹی پلیئرز گیم ہے، جس میں ہتھیاروں سے لیس کردار ایک دوسرے کی زندگیوں کا خاتمہ کرکے لیولز عبور کرتے ہیں ، اس گیم کے باعث نوجوانوں میں انگزائیٹی اور تشدد کا عنصر بڑھ رہا ہے ۔
مزید پڑھیں : لاہور، پب جی گیم نے ایک اور نوجوان کی جان لے لی
پب جی کے باعث ایک ماہ میں لاہور میں تین نوجوانوں نے اپنی زندگیوں کا خاتمہ کردیا، غازی روڈ کی پنجاب سوسائٹی میں اٹھارہ سالہ نوجوان کی پنکھے سے لٹکی لاش ملی متوفی شہریار اور اس کے بھائی شعیب کا تعلق کوئٹہ سے تھا اور دونوں ایک فلیٹ میں رہتے تھے۔
پولیس کے مطابق شعیب نے پولیس کو بتایا کہ شہریار زیادہ تر پب جی گیم ہی کھیلتا رہتا تھا، منع کرنے پر خودکشی کرلی پولیس کو جائے وقوع سے ایک نوٹ بھی ملا ہے ، جس میں متوفی نے اپنے پب جی کے ساتھی پلئیر جس کی دکان بھی اس کے فلیٹ کے نیچے تھی اس سے معافی مانگی اور کسی لڑکی کو لائیو کال پر خودکشی بھی دکھائی ہے۔
ایک ماہ کے دوران پب جی کے باعث خودکشی کا یہ تیسرا واقعہ ہے، اس سے قبل بھی 2 نوجوان پب جی گیم کی وجہ سے خودکشی کرچکے ہیں، آن لائن گیم پر پابندی کے لیے لاہور پولیس نے پہلے ہی انسپیکٹر جنرل پولیس کے ذریعہ اعلی حکام کے سامنے یہ معاملہ اٹھایا تھا۔
ماہرین کے مطابق پب جی بچوں کی ذہنی صحت کو متاثر کررہا ہے، متعدد ممالک اسی طرح کی شکایات پر کھیل پر پابندی لگانے کی کوششیں کر رہے ہیں۔