site
stats
پاکستان

لاہور میں آرسینک ملا پانی‘ چیف جسٹس ثاقب نثار برہم

Lahore Water

لاہور: عدالتِ عظمیٰ کے چیف جسٹس نے لاہور میں پینے کے آلودہ پانی پراظہارِ برہمی کرتے ہوئے صوبے کے چیف سیکرٹری کو اسکولوں اور اسپتالوں میں صاف پانی مہیا کرنے کی ہدایت کردی‘ چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ صحت اورتعلیم میں کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی۔

تفصیلات کے مطابق آج بروز منگل سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں چیف جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے صاف پانی کے حوالے سے ازخود نوٹس کی سماعت کی۔چیف جسٹس آف پاکستان نے لاہور میں پینے کے پانی میں آرسینک کی موجودگی پر اظہار برہمی کرتے ہوئے کہا ہے کہ سرکاری افسران صرف زبانی جمع خرچ کر رہے ہیں جبکہ عوام آرسینک ملا پانی پینے پر مجبور ہیں۔

نوٹس کی سماعت کے دوران چیف سیکرٹری پنجاب زاہد سعید عدالت میں پیش ہوئے۔ انہوں نے عدالت کو صاف پانی کی فراہمی کے لیے کیے گئے اقدامات کی تفصیل پیش کی ۔ اعداد وشمار پر عدالت نے اظہار برہمی کرتے ہوئے قرار دیا کہ سرکاری افسران صرف زبانی جمع خرچ کر رہے ہیں۔

عدالت نے استسفار کیا کہ ’کیا انھیں معلوم ہے کہ گھروں کے پانی میں آرسینک کی مقدار کتنی ہے؟‘۔’ حکومت بتائے کہ صحت اور تعلیم کے لیے کیا اقدامات کیے جا رہے ہیں؟‘۔ چیف جسٹس نےاسپتالوں اور تعلیمی اداروں میں پانی کے معیار سے متعلق تفصیلی رپورٹ پیش کرنے کا حکم بھی صادر کیا ۔

انہوں نے کہا کہ نجی سکول اور کالجز بھاری فیسیں وصول کرتے ہیں مگر کیا وہاں صاف پانی بھی طلبا کو فراہم کیا جا رہا ہے یا نہیں ۔ زبانی جمع خرچ کی بجائے عملی اقدامات کیے جائیں تو ہم اس کی تعریف بھی کریں گے ۔

عدالت نے چیف سیکرٹری پنجاب کو کہا کہ اگلے ایک ہفتے تک وہ اپنی تمام مصروفیات ختم کر کے فاضل ججز کے ساتھ رہیں تاکہ دیکھا جائے کہ سرکاری افسران کیا کر رہے ہیں ‘ صحت اور تعلیم میں کسی قسم کی کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی۔

چیف جسٹس آف پاکستان نے سماعت کے بعد چیف سیکرٹری پنجاب کے ہمراہ میو ہسپتال کا دورہ بھی کیا جہاں انھوں نے مریضوں کو دی جانے والی سہولیات کا جائزہ انہوں نے چیف سیکرٹری کو ہدایت کی کہ تمام ہسپتالوں میں فوری طور پر واٹر فلٹر لگائے جائیں اور مریضوں کو تمام سہولیات فراہم کی جائیں ۔


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top