site
stats
پاکستان

لاہور میں وکلا لڑ پڑے،سیشن عدالت میدان جنگ بن گئی

لاہور: سیشن عدالت میدان جنگ میں تبدیل ہوگئی، قتل کے مقدمے میں پیشی پر آئے وکلا آپس میں ہی الجھ پڑے، گالیوں، لاتوں اور گھونسوں کا آزادانہ استعمال کرتے ہوئے عدالت کا تقدس پامال کردیا۔

اے آر وائی نیوز کے نمائندہ لاہور عابد خان کے مطابق لاہور کی سیشن عدالت میں ایڈیشنل سیشن جج رئیس کی عدالت میں قتل کا ایک مقدمہ زیر سماعت تھا، دونوں فریقین کے وکلا آپس میں بحث کررہے تھے اور ایک دوسرے کی جانب سے دلائل کے انبار لگائے جارہے تھے اچانک فریقین کے وکلا دلائل دیتے دیتے مشتعل ہوکر باہم دست و گریباں ہوگئے۔

دونوں کے درمیان گالم گلوچ اور ہاتھا پائی ہوئی، وکلا نے ایک دوسرے پر لاتیں اور گھونسے برسائے، تھپڑ مارے، فائلیں اور دیگر چیزیں پھینک کر ماریں، عدالت کا کمرہ میدان جنگ بن گیا اور عدالت کا تقدس پامال ہوا۔

رپورٹر نے کہا کہ قبل ازیں بھی بیرسٹر احتشام سمیت دیگر ساتھیوں کی جانب سے ایک جج کے ساتھ گالم گلوچ اور اس کے چیمبر میں توڑ پھوڑ کا واقعہ پیش آیا تھا، شکایات ہائی کورٹ کو بھجوائی گئی اور اس پر تین رکنی بینچ بن چکا ہے جس نے ملزم وکلا کو نوٹس بھی جاری کردیا ہے تاہم ایسے واقعات معمول بنتے جارہے ہیں۔

اینکر پرسن کے سوال پر رپورٹر نے کہا کہ قانون کی بالادستی کے لیے آواز بلند کرنے والے وکلا کی جانب سے اس قسم کا مظاہرہ انتہائی افسوس ناک ہے، پنجاب بار کونسل کو یہ واقعہ دیکھ کر اس کا نوٹس لینا چاہیے۔

عابد خان نے مزید بتایا کہ اس سے پہلے بھی لاہور بار کے نائب صدر کی جانب سے ایسا ہی پرتشدد واقعہ سامنے آیا تھا جس پر ہائی کورٹ نے ان کا لائسنس معطل کیا تھا جس پر پنجاب بار کونسل سمیت دیگر وکلا تنظیمیں سراپا احتجاج بن گئی تھیں، انہوں نے احتجاجاً ریلیاں نکالیں اور عدالتوں کا بائیکاٹ کیا تھا اور ہائی کورٹ کی 150 سالہ تقریبات کا بھی بائیکاٹ کیا تھا،پنجاب بار کونسل اور وکلا کی باڈیز کو اس بات پر غور کرنا ہوگا کہ وہ صرف دلائل پر بات کریں، ججوں کو گالیاں دینے اور گالم بلوچ سمیت ہاتھا پائی سے گریز کریں۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top