The news is by your side.

Advertisement

سیسہ کا زہر امریکا کے قومی پرندے کی موت کا سبب

واشنگٹن: امریکا کا قومی پرندہ اپنے ہم وطنوں کی صنعتی ترقی کے باعث سخت خطرے کا شکار ہوگیا۔ امریکا میں عقاب سیسے کے خطرناک زہر کا شکار ہو کر نہایت درد ناک موت مرنے لگے۔

امریکی ریاست اورگن میں موجود بلیو ماؤنٹین وائلڈ لائف سینٹر میں رواں برس یہ تیسرا عقاب ہے جو اپنی طبعی عمر سے قبل موت کا شکار ہوا۔ یہ عقاب سیسے کے زہر کا شکار ہوا تھا۔

eagle-2

سینٹر کی انتظامیہ کے مطابق گزشتہ کچھ عرصے میں عقابوں کے جسم میں سیسے کی مقدار میں اضافہ دیکھا جارہا ہے۔

یہ سیسہ اس وقت ان کے جسم میں داخل ہوتا ہے جب یہ گولی سے شکار کیے ہوئے جانور جیسے ہرن، بیل یا بارہ سنگھوں کی باقیات کو کھاتے ہیں۔

eagle-3

ان شکار کیے ہوئے جانوروں کے جسم میں موجود بارود کے ذرات عقابوں کے جسم میں بھی داخل ہوجاتے ہیں۔ یاد رہے کہ گولی کی تیاری میں سیسے کا بھی استعمال کیا جاتا ہے۔

سیسہ کس طرح متاثر کرتا ہے؟

ماہرین کا کہنا ہے کہ سیسے کے زہر کا شکار ہونے والے عقاب موت سے قبل نہایت اذیت ناک حالت کا شکار ہوجاتے ہیں۔ یہ لگ بھگ مفلوج ہوجاتے ہیں اور بہت مشکل سے چل پھر پاتے ہیں۔

سیسے کا زہر ممالیہ جانداروں کو بھی بری طرح متاثر کرتا ہے اور ان میں نابینا پن، دماغی خلیات کو تباہ کرنے اور جسمانی اعضا کو ناکارہ بنانے کا سبب بنتا ہے۔

مزید پڑھیں: سنہ 2020 تک جنگلی حیات کی ایک تہائی آبادی ختم؟

ماہرین کا کہنا ہے کہ کسی بھی جاندار کے خون میں اگر 45 مائیکرو گرام سے زیادہ سیسے کی مقدار پائی جائے تو اس کے اثرات سے بچنے کے لیے فوری طور پر اس کا علاج کیا جانا ضروری ہے۔

دوسری جانب سینٹر کی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ مرنے والے عقابوں کے خون میں 500 مائیکرو گرام سے زیادہ سیسہ پایا گیا۔

قومی پرندے کا بچاؤ

سنہ 1972 میں امریکا میں جب مختلف زہریلی کیڑے مار ادویات پر پابندی لگائی گئی اس کے بعد سے عقابوں کی آبادی اور ان کی مجموعی صحت میں اضافہ ہونا شروع ہوگیا تھا، تاہم اسی سال میں عقابوں کی کل آبادی کا 10 سے 15 فیصد سیسے کے زہر کی وجہ سے ہلاک ہوگیا تھا۔

eagle-5

وجہ وہی تھی، مردار جانوروں میں پھنسے باردو کے ذرات جو عقاب کے جسم میں داخل ہوجاتے تھے۔

سنہ 2014 میں کیے جانے والے ایک جائزے کے مطابق گزشتہ 30 برسوں میں امریکا میں 3 ہزار عقاب سیسے کی وجہ سے موت کے گھاٹ اتر چکے ہیں۔

اس تمام صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے 30 سے زائد امریکی ڈاکٹرز اور سائنسدانوں نے ٹرمپ انتظامیہ کو ایک خط روانہ کیا ہے جس میں اوباما دور کے ایک قانون پر عملدر آمد کروانے کی استدعا کی گئی ہے۔

اس قانون کے تحت ملک بھر میں جنگلی حیات کے مراکز کے 150 میٹر ایکڑ کے اندر اسلحہ باردو کے استعمال پر پابندی عائد تھی۔

eagle-4

سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ معاشی و صنعتی ترقی کے لیے قومی پرندے کی نسل کو داؤ پر لگانا، نہایت احمقانہ فعل ہے۔

سیسہ ۔ خطرناک زہر

گولہ بارود کے علاوہ سیسے کو مندرجہ ذیل اشیا کی تیاری میں بھی استعمال کیا جاتا ہے۔

دیواروں پر کیا جانے والا روغن یا پینٹ
زیورات
جدید برقی آلات بشمول موبائل فون
مختلف اقسام کے برتن
پانی کے نلکے یا مختلف پائپس
بعض کھلونوں میں
ٹھوس پلاسٹک کی اشیا

اقوام متحدہ کے ادارہ ماحولیات یو این ای پی کے مطابق سیسہ کا انسانی جسم میں جانا دل کے امراض اور فالج کا خطرہ بڑھا دیتا ہے۔

اس کا زہر دماغ، جگر اور گردوں میں جا کر انہیں ناکارہ بنا دیتا ہے جبکہ یہ ہڈیوں کے گودے اور دانتوں میں بھی ذخیرہ ہو کر مستقل نقصان پہنچانے کا سبب بن جاتا ہے۔

سیسہ خاص طور پر دماغ اور اعصابی نظام پر حملہ آور ہو کر تولیدی اعضا، ہڈیوں اور قوت مدافعت کو ناکارہ بنا دیتا ہے۔ یہ چھوٹے بچوں کی دماغی نشونما کو متاثر کر کے انہیں کند ذہن اور کم عقل بھی بنا دیتا ہے۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں