پاکستان کو اسامہ بن لادن کی موجودگی کا نہیں پتا تھا‘ اوباما کا اعتراف -
The news is by your side.

Advertisement

پاکستان کو اسامہ بن لادن کی موجودگی کا نہیں پتا تھا‘ اوباما کا اعتراف

نئی دہلی: بھارت میں لیڈر شپ سمٹ سے خطاب کرتے ہوئے سابق امریکی صدر باراک اوباما نے پاکستان کے موقف کی تائید کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کو اسامہ بن لادن کی موجودگی کا نہیں پتا تھا‘ پاکستان ایک اچھا اتحادی ہے۔

تفصیلات کے مطابق امریکا کے چوالیسویں صدر باراک اوباما ان د نوں بھارت کے دورے پر ہیں اور انہوں نے نئی دہلی میں لیڈر شپ سمٹ سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان کی تعریف کرکے بھارتی پروپیگنڈا کو رد کردیا۔

صحافی کی جانب سے پوچھے گئے سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ ہمیں ایسا کوئی ثبوت نہی ملا کہ پاکستان اسامہ بن لادن کی ایبٹ آباد میں موجودگی سے واقف تھا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ پاکستان ہمارا بہترین اتحادی ہے اوراس نے دہشت گردی کے خلاف اچھی جنگ لڑی ہے۔

انہوں نے بھارت کے موقف کو رد کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گردی کسی ایک ملک کا مسئلہ نہیں ہے اور ہم اسے یہ کہہ کرنظر انداز نہیں کرسکتے کہ یہ ’ان کا مسئلہ ‘ ہے ‘ کیونکہ آج اگر کوئی ملک دہشت گردی کی وبا کا شکار ہے تو کل ہم بھی اسی دہشت گردی کی لپیٹ میں آسکتے ہیں۔

ایبٹ آباد آپریشن


یاد رہے کہ آج سے ساڑھے چھ برس قبل 2مئی 2011 کی تاریک رات میں بارہ بج کر پینتیس منٹ پر ایبٹ آباد کی حدود میں تین ہیلی کا پٹرز داخل ہوئے ، جن کا اصل ٹارگٹ دنیا کے انتہائی مطلوب شخص شیخ اسامہ بن لادن کو منطقی انجام تک پہنچانا تھا۔

پاکستان ملٹری اکیڈمی کاکول سے کچھ فاصلہ پر بلال ٹاؤن کے علاقہ میں واقعہ قلعہ نما کمپاؤنڈ پر فوجی آپریشن کیا، آپریشن میں امریکی فوج کے اسپیشل کمانڈوز کمپاؤنڈ کی بالائی منزل پر اترے، لڑائی تقریبا پینتالیس منٹ جاری رہی جس کے بعد القاعدہ لیڈر شیخ اسامہ بن لادن کو ہلاک کیا گیا۔

اسامہ کی ہلاکت کا اعلان امریکی صدر براک اوباما نے وائٹ ہاوس سے براہ راست خطاب میں کیا، صدر اوباما کا کہنا تھا کہ اسامہ بن لادن کی لاش امریکی فوج نے حاصل کر لی ہے جسے سمندر برد کر دیا گیا ہے۔آپریشن میں ایک امریکی ہیلی کاپٹر بھی تباہ ہوا تھا۔

پاکستان کا شروع دن سے اس حوالے سے موقف ہے کہ پاکستان اور اس کے ادارے ایبٹ آباد میں اسامہ بن لادن کی موجودگی سے واقف نہیں تھے ۔

پاکستانی دال اور قیمہ


اس وقت کے امریکی وزیرِ دفاع لیون پنیٹا نے بھی کچھ عرصہ قبل اعتراف کیا تھا کہ القاعدہ کے رہنماء اسامہ بن لادن کی موجودگی کے بارے میں انہیں خفیہ اطلاعات موصول ہوئیں تھی جو کہ کسی بھی مرحلے پر پاکستان سے شیئر نہیں کی گئی تھیں۔برطانوی اخبار میں اس وقت شائع ہونےوا لے ایک رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ امریکی خفیہ ادارے سی آئی اے نے اسامہ بن لادن کے خاندان کا ڈی این اے حاصل کرنے کے لیے ایبٹ آباد میں حفاظتی ٹیکوں کی ایک جعلی مہم چلائی تھی، رپورٹ کے مطابق اس مہم کی نگرانی ایک پاکستانی ڈاکٹر شکیل آفریدی نے کی تھی۔

سابق امریکی صدر نے لیڈر شپ سمٹ میں پاکستانی اور بھارتی کھانوں کی بھی تعریف کی اور کہا کہ میں شاید پہلا امریکی صدر ہوں جس کے پاس دال بنانے کی ترکیب ہے‘ میں نے یہ ترکیب پاکستانی اور بھارتی روم میٹ کی ماؤں سے سیکھی۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ وہ قیمہ بہت اچھا بنا لیتے ہیں اور چکن بھی ٹھیک بن جاتی ہے تاہم وہ پاکستانیوں کی طرح روٹیاں نہیں بنا سکتے ۔


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں