The news is by your side.

Advertisement

معاشی بحران سنگین: کیا لبنان ‘دیوالیہ’ ہونے جارہا ہے؟

لبنان کے نائب وزیر اعظم نے ملک کو ‘دیوالیہ’ قرار دے دیا ہے۔

غیر ملکی خبررساں ادارے کے مطابق لبنان کے نائب وزیر اعظم سعدی الشامی نے اپنے ٹیلی ویژن انٹرویو میں ملک اور سرکاری بینک کو دیوالیہ قرار دے دیا ہے۔

انٹرویو میں نائب وزیر اعظم سعدی الشامی کا کہنا تھا کہ لبنان کی ریاست اور اسٹیٹ بینک دونوں دیوالیہ ہوگئے تاہم عوام پر بحران کے اثرات کم سے کم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

عرب نیوز ویب سائٹ البوابہ کے مطابق لبنان کی معیشت بدترین بحران کا شکار ہے اور ملکی کرنسی کی قیمت میں گراوٹ کا شکار ہیں جب کہ لاکھوں لبنانی شہری پائیدار ذریعہ آمدن سے محروم ہو چکے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: خلیجی ریاستوں کا لبنان کیخلاف بڑا اقدام

ملک ایندھن کی تسلسل کے ساتھ درآمد کے قابل نہ ہونے کی وجہ سے پہلے سے ہی سنگین معاشی صورت حال کا شکار ہے، ملکی آبادی کا بڑا حصہ بجلی کی متواتر فراہمی سے بھی یکسر محروم ہے۔Image

دارالحکومت بیروت سمیت ملک بھر کے شہروں میں لوگ گھنٹوں اور بعض اوقات کئی روز تک پیٹرول پمپس پر قطاروں میں کھڑے رہنے پر مجبور ہیں تاکہ انہیں پیٹرول حاصل کرنے کا موقع مل جائے جس کی انہیں سخت ضرورت ہے۔

معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ کووڈ کے بعد کئی ترقی پذیر ممالک معاشی بحران کا شکار ہیں۔ اس تناظر میں ترقی یافتہ ممالک ان کی ڈوبتی معیشتوں کو سہارا دینے میں اپنا کردار ادا کریں۔

یاد رہے کہ دو ہزار انیس سے لبنان سخت معاشی دباؤ میں ہے، قومی کرنسی کی قدر 90 فیصد گر چکی ہے اور اشیائے ضروریہ کی خریداری عوام کی دسترس سے باہر ہوچکی ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں