The news is by your side.

Advertisement

لبنان کا معاشی بحران شدت اختیار کرگیا! ملک میں بچوں کے خشک دودھ کی بھی قلت

بیروت : شدید معاشی بحران کے دوران لبنانی عوام پر ایک اور قیامت ٹوٹ پڑی، ملک میں شیرخوار بچوں کا خشک دودھ بھی نایاب ہوگیا۔

مشرق وسطیٰ کا اہم ملک لبنان گزشتہ کئی برسوں سے شدید معاشی بحران سے دوچار ہے، جس کے باعث گزشتہ کئی روز سے عوام مسلسل سڑکوں پر سراپا احتجاج ہے اور حکومت کی تبدیلی کے نعرے لگارہے ہیں۔

لبنانی عوام کئی ماہ سے اپنے حقوق کےلیے احتجاجی مظاہرے کررہے ہیں

لبنانی عوام کےلیے پہلے ہی اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں کئی گناہ اضافے سے مصیبتوں میں گرے ہوئے تھے کہ اب بچوں کے خشک دودھ کی قلت لبنانیوں کے لیے نئی پریشانی کا باعث بن گئی۔

ایک طرف تو دکانوں اور فارمیسیوں سے بچوں کا خشک دودھ کئی ہفتوں سے غائب ہے تو دوسری جانب انٹرنیٹ پر وائرل ہونے والی 20 ٹن دودھ کے متبادل کو ضائع کرنے کی ویڈیو نے تہلکہ مچا دیا ہے۔

نوزائیدہ بچوں کا 20 ٹن خشک دودھ ضائع کیا جارہا ہے

لبنان کے انسانی حقوق کے کارکن نے نوزائیدہ بچوں کے فارمولا دودھ کی قلت اور اس پر سبسڈی کے خاتمے سے متعلق کہا ہے کہ ایسے حالات میں حکومت کو ناجائز منافع خوروں کے خلاف اقدامات اٹھانے چاہیے تھے لیکن حکومت کی غلط پالیسیوں نے عوام کی مایوسی میں مزید اضافہ کردیا ہے۔

‘لبنانی مارکیٹ میں بچوں کے فارمولا ملک کی قلت ہوئی تو اسے ہماری آنکھوں کے سامنے تباہ کئے جانے کی اجازت نہیں ہونی چاہئے تھی’۔

انہوں نے کہا کہ عوام سوال کررہے ہیں کہ ریاست نے اس کو چھپانے اور اپنی اجارہ داری قائم کرنے والے تاجروں کے خلاف قانونی کارروائی کیوں نہیں کی؟ ایسا لگتا ہے کہ ڈالروں میں نفع کمانے کا سلسلہ جاری رکھنے پر زور دینے والے تاجروں کے ذہنوں میں عوام کی کوئی اہمیت نہیں ہے۔

‘ملک میں منہ زور مہنگائی نے درآمدات میں رکاوٹ پیدا کرکےعوام کی قوت خرید میں کمی کردی ہے’۔

اشیا خورونوش کے درآمدکنندگان کے سنڈیکیٹ کے صدر ہانی بوہسالی کا کہنا تھا کہ اب دودھ بغیر سبسڈی والے سامان کے نرخ پر بازاروں میں پہنچایا جائے گا، جہاں تک ایک سال سے کم عمر کے بچوں کے دودھ کی قیمت کا تعلق ہے تو اس پر ادویہ کی طرح سبسڈی دی جاتی ہے۔

یونیسف لبنان کی نمائندہ یوکی موکو نے کہا کہ لبنان کے سب سے کمزور شہریوں کے لئے یہ ایک نازک وقت ہے۔

دوسری جانب لبنان میں پیٹرولیم درآمد کرنے والی کمپنیوں کی ایسوسی ایشن کے سربراہ نے توقع ظاہر کی ہے کہ اگر سبسڈی ختم کردی گئی تو پٹرول کی قیمت میں اضافہ ہوگا۔

یہ بھی پڑھیں : ملکی بحران اور حکومت کی ناکام پالیسیوں پر لبنانی عوام نے علمِ بغاوت بلند کردیا

واضح رہے کہ بیروت کی امریکی یونیورسٹی میں کرائسس آبزرویٹری نے متنبہ کیا ہے کہ لبنان کے ناکام ریاستوں میں شامل ہونے کا خطرہ اب ایک حقیقت بن گیا ہے کیونکہ گزشتہ 5 برسوں میں یہ 36 درجے گر چکا ہے۔ 2021 میں اس کا درجہ 179 ریاستوں میں سے 34 ناکام ترین ریاستوں میں شامل تھا۔

Comments

یہ بھی پڑھیں