The news is by your side.

’گورنر راج لگانے کیلیے اسمبلی سے قرارداد منظور کرانا لازمی ہوگا‘

ماہر قانون ابوذر سلمان نیازی نے کہا ہے کہ کسی صوبے میں گورنر راج لگانے کے لیے اسمبلی سے قرارداد منظور کرانا لازمی ہوگا۔

ماہر قانون ابوذر سلمان نیازی نے موجودہ ملکی سیاسی صورتحال کے حوالے سے اے آر وائی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اسمبلی تحلیل کیلیے پارٹی صدر یا پارلیمانی پارٹی کی اجازت کی ضرورت نہیں ہوتی کیونکہ آئین کے تحت پارلیمانی امور میں پارٹی صدر نہیں بلکہ پارلیمانی پارٹی کے فیصلوں کو دیکھا جاتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ وزیر اعلیٰ کو آئین اسمبلی تحلیل کرنے کا اختیار دیتا ہے۔ اگر پرویز الہٰی اسمبلی تحلیل کرنا چاہتے ہیں تو انہیں پارٹی صدر نہیں روک سکتے تاہم تحریک عدم اعتماد آنے کی صورت میں وزیراعلیٰ اسمبلی تحلیل نہیں کرسکتے۔

ایڈووکیٹ ابوذر سلمان کا مزید کہنا تھا کہ اٹھارویں ترمیم کے بعد گورنر راج کو تحفظ دیا گیا ہے۔ آرٹیکل 232 کے تحت جنگ کی صورت، میں گورنر راج لگایا جا سکتا ہے جب کہ آرٹیکل 234 کے مطابق گورنر راج اندرونی خلفشار یا غیر یقینی صورتحال میں بھی لگایا جا سکتا ہے۔

ماہر قانون کا کہنا تھا کہ دونوں صورتوں میں گورنر راج لگانے کے لیے اسمبلی سے قرارداد منظور کرانا ہوگی۔ اگر قرار داد منظور نہیں ہوتی ہے تو پھر گورنر راج کے نفاذ کے لیے صدر کی منظوری چاہیے ہوگی۔

Comments

یہ بھی پڑھیں