امجد صابری قتل و دیگر دہشت گردی کی وارداتوں میں ملوث2 دہشت گرد گرفتار، وزیر اعلیٰ سندھ
The news is by your side.

Advertisement

امجد صابری قتل و دیگر دہشت گردی کی وارداتوں میں ملوث2 دہشت گرد گرفتار، وزیر اعلیٰ سندھ

کراچی: وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ شہر کے حالات خراب کرنے والوں کی گرفتاریوں کے لیے سی ٹی ڈی نے اہم کارروائی کی جس کے نتیجے میں لیاقت آباد سے لشگر جھنگوی نعیم بخاری گروپ کے دو خطرناک دہشت گرد گرفتار ہوئے۔

سینٹرل پولیس آفس میں میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے سید مراد علی شاہ نے کہا کہ سی ٹی ڈی نے شہر کے حالات خراب کرنے والے دو اہم ملزمان کو گرفتار کیا ہے جن کے قبضے سے بھاری تعداد میں اسلحہ بھی برآمد کیا گیا۔

مراد علی شاہ نے کہا کہ ملزمان کا تعلق لشکر جھنگوی نعیم بخاری گروپ سے ہے جن کی شناخت اسحاق عرف بوبی اورعاصم عرف کیپری کے نام سے ہوئی ہے، وزیر اعلیٰ سندھ نے کہا کہ ملزمان کے قبضے سے برآمد ہونے والے اسلحے کی فرانزک کروائی گئی۔


پڑھیں:  متحدہ سیکٹر انچارج شہزاد ملا کا امجد صابری کے قتل کا اعتراف


انہوں نے کہا کہ اسلحے کی فرانزک رپورٹ میں یہ بات سامنے آئی کہ شہر میں 28 مقامات پر ہونے والی دہشت گردی کے واقعات ان ہی کے قبضے سے برآمد ہونے والے اسلحے سے مل گئے ہیں۔

وزیر اعلیٰ نے وارداتوں کی تفصیلات کے حوالے سے آگاہ کیا کہ ایف سی ایریا امام بارگاہ پر بم دھماکہ، ناظم آباد میں مجلس پر فائرنگ، عائشہ منزل پر ٹریفک پولیس اہلکاروں کا قتل، فوجی جوانوں کی گاڑی پر فائرنگ، اتحاد ٹاؤن میں 4 رینجرز اہلکاروں کی شہادت کے علاوہ دیگر کارروائیوں میں ملوث تھے۔

مراد علی شاہ نے کہا کہ ملزمان معروف قوال امجد صابری شہید کے قتل میں بھی ملوث ہیں، انہوں نے کہا کہ عاصم عرف کیپری امجد صابری کا پڑوسی تھا جسے لیاقت آباد سے گرفتار کیا گیا ہے۔ملزمان شہر کے بڑے دہشت گردی کے واقعات میں ملوث ہیں ان کی گرفتاری سے ماسٹر مائنڈ تک پہنچنے میں مدد ملے گی۔


مزید پڑھیں: امجد صابری کے قتل میں ملوث دو بھائی گرفتار


وزیر اعلی نے کہا کہ سی ٹی ڈی کی کامیاب کارروائی پر انہیں مبارک باد پیش کرتا ہوں جبکہ سندھ حکومت کی جانب سے ڈیپارٹمنٹ کے لیے نقد انعام کا بھی جلد اعلان کیا جائے گا۔

شہر میں جاری دھرنوں اور گرفتاریوں پر روشنی ڈالتے ہوئے وزیر اعلیٰ سندھ نے کہا کہ شہر کے حالات خراب کرنے کی کسی کو اجازت نہیں دی جائے گی، کراچی کے عوام حکومت اور اداروں کے ساتھ تعاون کریں اور یقین رکھیں کہ جو بے گناہ ہوگا اُسے رہا کردیا جائے گا۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں