The news is by your side.

یہ ایک خط کا جواب ہے!

یہ ایک خط کا جواب ہے جو بلیماران دلّی کے کسی نسیم صاحب نے لکھا ہے۔ اپنے خط میں نسیم صاحب مجھ پر بہت برسے ہیں، خوب گالیاں دی ہیں، ایسی گالیاں جنہیں کھا کر میں بہت بدمزہ ہوا اور باتوں کے علاوہ مجھے انہوں نے گرہ کٹ کا بھائی چور کہا ہے۔

صرف گالیوں پر اکتفا ہوتا تو شاید میں برداشت کر جاتا، لیکن انہوں نے یہ بھی لکھا ہے کہ اگر میں کبھی ان کے ہتھے چڑھ گیا تو میری ہڈی پسلی ایک کر دیں گے۔

نسیم صاحب نے اپنے خط میں بڑے بھاری بھرکم الفاظ استعمال کئے ہیں۔ کچھ اس وزن کے الفاظ جو عبادت بریلوی صاحب اپنے تنقیدی مضامین میں کیا کرتے ہیں۔ ان کے وزن دار الفاظ سے مجھے اندازہ ہو رہا ہے کہ وہ پہلوان قسم کے آدمی ہیں۔ میں نہیں چاہتا کہ ایسے آدمی کے دل میں میرے لئے پرخاش کا خیال رہے، اس لئے میں اپنی پوزیشن واضح کرنے کے لئے یہ خط لکھ رہا ہوں۔

میرا خط پڑھنے سے پہلے نسیم صاحب کی ناراضگی کا پس منظر دیکھ لیجئے۔

کچھ مہینے پہلے مرزا عبدالودود کے مزاحیہ مضامین کا پہلا مجموعہ "گٹھلیوں کے دام” شائع ہوا تھا۔ مرزا اپنی کتاب میرے پاس لائے تھے کہ میں اس پر تبصرہ کردوں۔ وہ تبصرہ دلّی کے رسالہ”گھامڑ” میں شائع ہوگیا، نسیم صاحب نے وہ تبصرہ پڑھ کر یہ نتیجہ اخذ کیا کہ "گٹھلیوں کے دام” مزاحیہ ادب میں ایک بیش قیمت اضافہ ہے، چنانچہ بیس روپے میں انہوں نے یہ کتاب خریدی اور جب کتاب پڑھی تو انہیں احساس ہوا کہ وہ ٹھگ لئے گئے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ کتاب پڑھ کر انہیں یوں لگا جیسے کسی نے ان کی جیب کاٹ لی ہو، جس میں بیس روپے تھے۔ اور چونکہ انہوں نے یہ کتاب میرے تبصرہ کی بناء پر خریدی تھی اس لئے وہ سمجھتے ہیں کہ میں اس جیب کترے کا رشتہ دار ہوں۔

نسیم صاحب! آپ کے خط کو پڑھنے سے مجھے یقین ہوگیا ہے کہ آپ کو کتاب پڑھنے کی تمیز تو شاید ہے۔ تبصرہ پڑھنے کی ہرگز نہیں ہے۔ میں نے ہرگز یہ نہیں لکھا کہ یہ کتاب مزاحیہ ادب میں ایک بیش قیمت اضافہ ہے۔ میں جانتا ہوں میں نے یہ بھی نہیں لکھا کہ مرزا عبدالودود کی کتاب بالکل واہیات چیز ہے۔ لیکن اگر میں اس طرح لکھتا تو مرزا اسی طرح میرے خون کے پیاسے ہوتے جیسے آج آپ ہیں، اور ماشاء اللہ ان کی صحت آپ کی صحت سے کسی لحاظ سے کم نہیں۔

آئیے میں آپ کو تبصرہ پڑھنا سکھاؤں۔ میں نے لکھا تھا کہ "مرزا عبدالودود نے بہت ہی قلیل مدت میں مزاح نگاروں کی صف میں اپنی جگہ بنالی ہے۔”

آپ سمجھے میں یہ کہہ رہا ہوں کہ مرزا جب مزاح کے میدان میں داخل ہوئے تو وہاں پہلے سے موجود مزاح نگاروں نے اپنی اپنی نشست چھوڑ کر ان کی خدمت میں گزارش کی کہ حضور یہ کرسیاں دراصل آپ ہی کے لائق ہیں۔ تشریف رکھئے۔ نسیم صاحب میرا یہ مطلب ہرگز نہیں تھا۔ میں نے تو تبصرے کی زبان میں یہ کہنے کی کوشش کی تھی کہ مرزا نے مزاح نگاروں کی صف میں بالکل ایسے جگہ بنائی ہے جیسے ریل کے ایک بہت ہی بھرے ہوئے تھرڈ کلاس کے ڈبے میں ایک نیا مسافر اپنی جگہ بناتا ہے یعنی دروازہ بند پاکر پہلے انہوں نے کھڑکی سے بستر اور صندوق پھینکا پھر اسی رستے خود کود پڑے، بستر کسی کے سر پر پڑا، صندوق نے کسی اور کو زخمی کیا۔ ایک دو مسافر ان کے بوجھ کے نیچے دب گئے۔ ایسا بھونچال آنے پر لوگ خود ہی ادھر ادھر سرک گئے اور اس طرح مرزا نے اپنی جگہ بنالی۔

میں نے لکھا تھا کہ "مرزا نے ابھی ابھی اس دشت میں قدم رکھا ہے، اس دشت کی سیاحی کے لئے تو عمر پڑی ہے۔”

آپ سمجھے میں کہہ رہا ہوں کہ ان کا قدم پڑتے ہی اس دشت میں پھول اگ آئے ہیں۔ جب وہ پوری عمر اس دشت میں قدم رکھے رہیں گے تو یہ دشت نشاط باغ بن جائے گا۔ حضور میرا مطلب یہ نہیں تھا، میں تو مرزا صاحب کو بڑے پیار سے مشورہ دے رہا تھا کہ بھیا اس دشت کی سیاحی کے لئے عمر پڑی ہے ابھی سے اس میں کیوں کود رہے ہو ۔ بیس پچیس سال اور صبر کرو ، جب کوئی اردو پڑھنے والا نہیں رہے گا تو آپ شوق سے اس دشت کی سیاحی پر اترنا تاکہ کوئی آپ کی اس بے راہ روی پر اعتراض نہ کرسکے۔

میں نے لکھا ہے کہ "مرزا کا لکھنے کا انداز ریسی (RACY) ہے۔”

آپ نے سمجھ لیا کہ ان کے انداز بیان میں وہی روانی ہے جو ریس کے گھوڑوں میں ہوتی ہے۔ یعنی ایک خوبصورت ایک ادائے بے نیازی کے ساتھ تیزی سے منزل تک پہنچنے کی آرزو۔ نہیں صاحب! میرا مطلب ہرگز یہ نہیں تھا۔ ریسی (RACY) سے میرا مطلب گھڑ دوڑ سے ضرور تھا لیکن ان گھوڑوں کی دوڑ سے نہیں جو بمبئی کے مہا لکشمی میدان میں دوڑتے ہیں، بلکہ ان گھوڑوں سے تھا جو تانگوں کے آگے جتے ہیں اور جو سڑکوں پر پیدل اور سائیکل سوار لوگوں کو روندتے ہوئے چلے جاتے ہیں، اور اگر اڑ جائیں تو ایسے اڑتے ہیں کہ کوچوان کا چابک بھی انہیں اپنی جگہ سے ہلا نہیں سکتا۔

میں نے لکھا تھا کہ ’’کتاب کے تمام جملے مصنّف کی محنت کے آئینہ دار ہیں۔”

آپ سمجھے میرا مطلب یہ ہے کہ مصنف نے ایک ایک جملے پر وہ محنت کی ہے جو ایک ذہین لڑکا اپنے امتحان کی تیاری میں کرتا ہے تاکہ وہ کلاس میں اوّل آسکے۔ نہیں صاحب! میرا یہ مطلب ہرگز نہیں تھا۔ میرا اشارہ اس محنت کی طرف تھا جو ایک دھوبی ایک گندے کھیس میں سے میل نکالنے کی کوشش میں کرتا ہے ۔ یعنی پتھر پر مار مار کر اتنے زور سے مارنے کے باوجود کھیس پھٹ جاتا ہے، پر میل نہیں نکلتا۔

میں نے لکھا تھا کہ "مجھے یقین ہے کہ یہ کتاب ہاتھوں ہاتھ لی جائے گی۔”

آپ نے سمجھا کہ یہ کتاب یوں بکے گی جیسے متھرا کے پیڑے یا ناگپور کے سنگترے یا بمبئی کی بھیل پوری۔ نسیم صاحب! میرا یہ مطلب ہرگز نہیں تھا۔ پہلی بات تو آپ یہ اچھی طرح سمجھ لیجئے کہ اردو کی کوئی کتاب ان معنوں میں ہاتھوں ہاتھ نہیں لی جاتی۔ یہ ہمیشہ ہاتھوں ہاتھ دی جاتی ہے ۔ یعنی کتاب کو آپ خود شائع کرتے ہیں اور پھر اسے آپ دوسرے ادیبوں کو ہاتھوں ہاتھ بانٹتے ہیں۔ وہ بھی کچھ اس طرح کہ اس ہاتھ دے اس ہاتھ لے۔ یعنی وہ بھی آپ کو اپنی کتابیں اسی طرح پیش کریں۔

جہاں تک مرزا کی کتاب "گٹھلیوں کے دام” کا تعلق ہے، میرا مطلب یہ بھی نہیں تھا!

جب میں نے لکھا کہ یہ کتاب ہاتھوں ہاتھ لی جائے گی تو میرا مطلب تھا کہ پبلشر سے یہ کتاب سیدھے ردی والے لے جائیں گے، وہاں سے یہ کتاب حلوائی کے ہاتھ پہنچنے گی اور پھر گاہکوں کے پاس جائے گی۔ مجھے حیرت ہے کہ آپ اتنی سی بات کو سمجھ نہیں پائے۔ خیر بیس روپے خر چ کرنے کے بعد تو سمجھ ہی گئے ہوں گے۔

آپ نے لکھا ہے کہ میں نے تبصرے میں مرزا کے مضامین میں سے کچھ ایسے فقرے نقل کئے ہیں جو بہت خوب صورت اور معنی خیز ہیں۔ ان سے آپ کو دھوکہ ہوا کہ شاید ساری کتاب ہی خوب صورت ہوگی۔

ایسے کتنے فقرے میں نے نقل کئے تھے؟ کُل چار۔ اور یہ میں ہی جانتا ہوں کہ ان کو کتاب میں سے ڈھونڈنے میں مجھے کتنی ریاضت کرنی پڑی۔ تقریباً پوری رات میں کتاب کو کھنگالتا رہا تب کہیں جاکر یہ فقرے ہاتھ لگے۔ ویسے ایک گزارش کر دوں کہ دو صفحے کی کتاب میں دو چار جملے اچھے نکل آتے ہیں۔ بھائی جان وہ گھڑی جو کئی سال سے بند پڑی ہو وہ بھی دن میں دو بار صحیح وقت بتا سکتی ہے۔

آپ کی شکایت ہے کہ میں نے اپنے تبصرے میں لکھا ہے کہ "میں تمام اردو داں حضرات کو اس کتاب کے مطالعے کی پُر زور سفارش کروں گا۔”

جی میں نے ضرور لکھا ہے لیکن آپ کو یہ تو دیکھنا چاہیے تھا کہ سفارش کرنے والے کی اپنی حیثیت کیا ہے۔ میں تو دن میں سیکڑوں لوگوں کو سفارشی خط دیتا رہتا ہوں، کبھی وزیر نشر و اشاعت کے نام، کبھی وزیرِ تعلیم کے نام، کبھی شہر کے میئر کے نام کہ اس کو ریڈیو اسٹیشن کا ڈائریکٹر بنا دو۔ اس کو کالج کا پرنسپل بنا دو، اس محلے میں پانی کا نل لگوا دو۔ لیکن آج تک میرے سفارشی خط والے لوگوں کو کسی نے سرکاری دفتر کے قریب نہیں گھسنے دیا۔ میری سفارش پر لگے ہوئے نل سے کسی نے پانی نہیں پیا۔ میری سمجھ میں نہیں آتا کہ آپ نے میری سفارش کیوں مان لی۔

تبصرہ کو جلدی ختم کرتے ہوئے میں نے لکھا کہ "میں مصنّف اور قاری کے درمیان کھڑا نہیں رہنا چاہتا۔”

نسیم صاحب! آپ اس کا مطلب یہ سمجھے کہ کتاب اتنی دل چسپ ہے کہ آپ چاہتے ہیں کہ قاری جلد سے جلد اس کا مطالعہ شروع کر دے اور اس سے لطف اندوز ہو۔ نہیں جناب میرا مطلب یہ ہرگز نہیں تھا۔ میں جانتا تھا کہ جو قاری بھی اس کتاب کو پڑھے گا مصنّف کی گردن پر ہاتھ ڈالنا چاہے گا، اس لئے میں جلد از جلد راستے سے ہٹ جانا چاہتا تھا۔

اب صرف اتنی سی بات رہ گئی کہ تبصرے اس طرح کیوں لکھے جاتے ہیں کہ آپ جیسا سیدھا سادا قاری ان کا مطلب نہ سمجھ سکے۔ اس سلسلے میں عرض ہے کہ تبصرے کا یہی اصول ہے اور یہ اصول میں نے نہیں بنایا۔ ایک عرض اور کر دوں کہ جب مرزا صاحب اپنی کتاب میرے پاس تبصرے کے لئے لائے تھے تو ساتھ ہی برفی کا ایک ڈبہ بھی لائے تھے۔ برفی بڑی عمدہ قسم کی تھی۔ ہوسکتا ہے کہ اس کی خوشبو نے کتاب کے بارے میں میری رائے میں مداخلت کی ہو۔ آپ تو جانتے ہی ہوں گے کہ اچھے جہیز کے ساتھ ایک معمولی لڑکی ایک اچھی دلہن بن جاتی ہے اور ساس سسر کے علاوہ دولھے میاں کو بھی خوب صورت لگنے لگتی ہے۔ تبصرہ نگاری میں اگر مجھ سے کچھ غلطی ہوئی ہے تو محض برفی کی وجہ سے۔

امید ہے اب آپ سمجھ گئے ہوں گے کہ تبصرہ کس طرح پڑھاجاتا ہے۔ یقین مانیے بیس روپے میں یہ سودا مہنگا نہیں ہے۔ پھر بھی اگر آپ سمجھتے ہیں کہ آپ کے ساتھ زیادتی ہوئی تو بندہ معافی کا خواستگار ہے۔

آپ کا خیر اندیش

(یہ معروف ہندوستانی مزاح نگار دلیپ سنگھ کا مشہور انشائیہ ہے جس پر انھیں‌ کئی نام ور ادیبوں‌ اور اہلِ‌ قلم نے خاص طور پر سراہا تھا۔ دلیپ سنگھ 1994 میں انتقال کرگئے تھے۔ انھوں نے اپنے اس انشائیہ کو "معذرت نامہ” کا عنوان دیا تھا)

Comments

یہ بھی پڑھیں