The news is by your side.

Advertisement

ایم کیو ایم پر پابندی ‘ وفاقی سیکرٹری داخلہ کو عدالت نے طلب کرلیا

لاہور: ہائی کورٹ نے ایم کیو ایم پر پابندی کے لیے دائر درخواست پر وفاقی سیکرٹری داخلہ کو چوبیس اکتوبر کو طلب کر لیا، عدالت میں کہا گیا کہ حکومت معاملے پر ٹال مٹول سے کام لے رہی ہے۔

تفصیلات کے مطابق لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے کیس کی سماعت کی ، جوڈیشل کمیشن کے اجلاس کے باعث اٹارنی جنرل آف پاکستان پیش نہ ہوئے۔

عدالت نے سرکاری وکیل سے استفسار کیا کہ حکومت یہ بتائے کہ اس نے ابھی تک پاکستان مخالف نعروں پر کیا کارروائی کی یہ کام حکومت کے کرنے کا ہے عدلیہ کا نہیں ۔

درخواست گزار نے عدالت کو بتایا کہ عدالتی احکامات کے باوجود ایم کیو ایم پریس کانفرنسیں کر رہی ہے اور حکومت خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے حکومت کی جانب سے بار بار عندیہ دیا جا رہا ہے کہ وہ ایم کیو ایم کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کر رہی ۔ عدالت نے قرار دیا کہ یہ ملکی سالمیت کا معاملہ ہے اور اسے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا ۔

وزارت داخلہ کے افسر کی عدم پیشی اور ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے جواب کے لیے مزید مہلت مانگنے پر اظہار برہمی کرتے ہوئے عدالت نے قرار دیا کہ اس سے حکومت کی اس معاملے میں غیر سنجیدگی نظر آتی ہے۔

عدالت نے سماعت چوبیس اکتوبر تک ملتوی کرتے ہوئے وفاقی سیکرٹری داخلہ کو ذاتی حیثیت میں طلب کر لیا تاکہ وہ پیش ہو کر ایم کیو ایم.کے متعلق کیے گئے اقدامات کی تفصیلی رپورٹ پیش کریں۔

درخواست گزار آفتاب ورک نے موقف اختیار کیا کہ قائد متحدہ پاکستان مخالف تقاریر کرتے ہیں اور ایم کیو ایم کے قائدین اس کی توثیق کرتے ہیں۔ آئین کے مطابق ایسی کسی جماعت کو پاکستان میں سیاست کی اجازت نہیں دی جا سکتی جو ملکی مفادات کے خلاف کام کرے ۔

قائد متحدہ کی تقاریر سے ثابت ہوچکا ہے کہ ایم کیو ایم ملکی سالمیت کے خلاف سرگرمیوں میں ملوث ہے لہذا عدالت ایم کیو ایم پر پابندی عائد کرے اور اس کے اراکین پارلیمنٹ کو نااہل قرار دے جبکہ قائد متحدہ سمیت دیگر رہنماوں کے خلاف غداری کا مقدمہ درج کر کے کارروائی کا حکم دیا جائے۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں