The news is by your side.

Advertisement

پرویز مشرف کی عدم موجودگی میں سزا آئین اور اسلامی قوانین کی خلاف ورزی ہے، تفصیلی فیصلہ جاری

لاہو ر : لاہور ہائی کورٹ نے سابق صدر پرویز مشرف کی جانب سے خصوصی عدالت کے خلاف درخواست پر تفصیلی فیصلے میں کہا خصوصی عدالت کی کارروائی غیر آئینی ہے اور پرویز مشرف کی عدم موجودگی میں سزا آئین اور اسلامی قوانین کی خلاف ورزی ہے۔

تفصیلات کے مطابق لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے سابق صدر پرویز مشرف کی جانب سے خصوصی عدالت کے خلاف درخواست پر تفصیلی فیصلہ جاری کردیا، تفصیلی فیصلہ صفحات پر مشتمل ہے۔

عدالت نے فیصلے میں قرار دیا کہ آرٹیکل 6 میں اٹھارویں ترمیم میں تبدیلی کی گئی اس لیے آرٹیکل چھ کا ماضی سے اطلاق نہیں کیا جاسکتا، خصوصی عدالت کی تشکیل اور کیس کو چلانے کے لیے قانونی تقاضے پورے نہیں کیے گئے۔

فیصلے میں کہا گیا استغاثہ وفاقی حکومت کی منظوری کے بغیر دائر نہہں کیا جاسکتا جبکہ پرویز مشرف کے خلاف استغاثہ کابینہ کی منظوری کے بغیر دائر کیا گیا، لہذا خصوصی عدالت کی کارروائی غیر آئینی ہے، پرویز مشرف کی عدم موجودگی میں سزا آئین اور اسلامی قوانین کی خلاف ورزی ہے۔

ہائی کورٹ نے خصوصی عدالت کی تشکیل اور پرویز مشرف کی عدم موجودگی میں دی گئی سزا کو غیر آئینی قرار دے دیا جبکہ عدالت نے اسپیشل کورٹ لاء ایکٹ 1976 کی شق 9 کو بھی کالعدم قرار دے دیا۔

مزید پڑھیں : پرویز مشرف کو سزائے موت کا حکم دینے والی خصوصی عدالت کی تشکیل غیرآئینی قرار

یاد رہے 13 جنوری کو لاہور ہائی کورٹ نے سابق صدر پرویز مشرف کی درخواست منظور کرتے ہوئے خصوصی عدالت کی تشکیل کو غیر آئینی قرار دیاتھا۔

خیال رہے سابق صدر پرویزمشرف نے خصوصی عدالت کےخلاف درخواست دائرکی تھی ، جس میں مؤقف اختیار کیا گیا تھا کہ خصوصی عدالت کی تشکیل غیر آئینی ہے، پرویز مشرف کے خلاف مقدمہ چلانے کی وفاقی کابینہ سے منظوری نہیں لی گئی، نوازشریف نے اپنی صوابدید پر خصوصی عدالت قائم کی، خصوصی عدالت کے پراسیکیوٹر کی تعیناتی سمیت کوئی عمل قانون کے مطابق نہیں۔

واضح رہے 17 دسمبر کو خصوصی عدالت نے آئین شکنی کیس میں محفوظ شدہ فیصلہ سناتے ہوئے سابق صدر و سابق آرمی چیف پرویز مشرف کو سزائے موت دینے کا حکم دیا تھا، عدالت نے اپنے مختصر فیصلے میں کہا تھا کہ سابق صدر پرویز مشرف پر آئین کے آرٹیکل 6 کو توڑنے کا جرم ثابت ہوا ہے۔

fb-share-icon0
Tweet 20

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں