ماڈل ٹاون جوڈیشل انکوائری رپورٹ کو منظر عام پر لانے کیلئے پنجاب حکومت کو نوٹس جاری -
The news is by your side.

Advertisement

ماڈل ٹاون جوڈیشل انکوائری رپورٹ کو منظر عام پر لانے کیلئے پنجاب حکومت کو نوٹس جاری

لاہور: لاہور ہائیکورٹ نے ماڈل ٹاون جوڈیشل انکوائری رپورٹ کو منظر عام پر لانے کیلئے سانحہ کے متاثرین کی درخواست پر پنجاب حکومت کو نوٹس جاری کر دیئے۔

تفصیلات کے مطابق لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی نے قیصر اقبال سمیت سانحہ ماڈل ٹاؤن کے متاثرین کی درخواست کی سماعت کی، درخواست گزار کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ سانحہ ماڈل ٹاون کی جوڈیشل انکوائری رپورٹ منظر عام پر آنے سے ذمہ داروں کا تعین ہوگا اور مقتولین کے ورثا کو جلد انصاف کی فراہمی کا عمل ممکن بنایا جا سکتا ہے۔

وکیل کا مزید کہنا تھا کہ معلومات تک رسائی کسی بھی شہری کا بنیادی حق ہے مگر تین سال سے ماڈل ٹاون کی انکوائری رپورٹ عام پر نہیں لائی جا رہی، جو اس بنیادی حق کی خلاف ورزی ہے۔

متاثرین کے وکیل نے کہا کہ ان کے پیارے اس سانحہ میں جاں بحق اور زخمی ہوئے مگر انفرمیشن کمشنر کی عدم تعیناتی کی بناء پر وہ یہ رپورٹ ابھی تک حاصل نہیں کر سکے، اس رپورٹ کے منظر عام پر آنے سے اصل ذمہ داروں کا تعین ہوگا۔


مزید پڑھیں :  سانحہ ماڈل ٹاؤن جوڈیشل رپورٹ منظر عام پر لانے کے لئے متاثرین کی درخواست دائر


عدالت نے ریمارکس دیئے کہ حکومت کو پہلے انکوائری کروانے کا شوق تھا اب رپورٹ کیوں منظر عام پر نہیں لائی جا رہی، بتایا جائے کہ یہ رپورٹ عوامی دستاویز ہے یا پرائیویٹ۔

عدالت نے درخواست پر پنجاب حکومت کو نوٹس جاری کرتے ہوئے 12 ستمبر کو جواب طلب کر لیا۔

یاد رہے کہ سانحہ ماڈل ٹاؤن جوڈیشل رپورٹ منظر عام پر لانے کے لئے متاثرین کی جانب سے درخواست دائر کی گئی تھی، جس میں کہا گیا تھا کہ سانحہ ماڈل ٹاؤن میں14 افرادجاں بحق اور100زخمی ہوئے، جوڈیشل انکوائری رپورٹ ابھی تک منظرعام پرنہیں لائی گئی، رپورٹ شائع نہ کرناآئینی حق کی خلاف ورزی ہے، ٹرائل میں جوڈیشل انکوائری رپورٹ انتہائی اہم کرداراداکر سکتی ہے، سانحہ ماڈل ٹاؤن کی جوڈیشل انکوائری رپورٹ منظرعام پرلائی جائے۔

واضح رہے کہ تین سال قبل پولیس کی جانب سے ماڈل ٹاون میں منہاج القرآن مرکز کے ارد گرد سے رکاوٹیں ہٹانے کے نام پر آپریشن کیا گیا جہاں کارکنوں اور پولیس کے درمیان مزاحمت ہوئی، پولیس کے شدید لاٹھی چارج کے سبب 14 افراد جاں بحق اور درجنوں زخمی ہوگئے تھے۔


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں