The news is by your side.

Advertisement

لنک روڈ زیادتی کیس : لاہور ہائی کورٹ کا واقعہ میں ملوث ملزموں کی فوری گرفتاری کا حکم

لاہور : چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ نے لنک روڈ زیادتی واقعہ میں ملوث ملزموں کی فوری گرفتاری کا حکم دیتے ہوٸے قرار دیا کہ کوئی ماروائے عدالت کام نہ ہو جبکہ عدالت میں سی سی پی او نے اپنے بیان پر معذرت کرلی۔

تفصیلات کے مطابق لاہورہائی کورٹ میں لنک روڈزیادتی کیس کی جوڈیشل انکوائری کی درخواست پر سماعت ہوئی ، چیف جسٹس لاہورہائی کورٹ محمدقاسم خان نے درخواست پر سماعت کی۔

چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ نے کہا کہ قانون کےمطابق حکومت چاہےتوجوڈیشل انکوائری کراسکتی ہے، قانون پڑھ لیں،بتائیں کہ کس قانون کےتحت یہ حکم جاری کریں، صرف خبرچھپوانے کےلیے درخواستیں دائرنہ کی جائیں۔

سرکاری وکیل نے بتایا کہ ایف آئی آردرج ہے،انویسٹی گیشن ہورہی ہے،جس پر چیف جسٹس محمدقاسم خان کا کہنا تھا کہ سی سی پی او نے وہ جملہ بولا جس پر پوری کابینہ سے معافی مانگنی چاہیے، یہ کیا انویسٹی گیشن ہے، سی سی پی او مظلوم خاتون کوغلط کہہ رہاہے، بہت سےوزرا نے عجیب وغریب بیانات دیے ، پتہ نہیں انویسٹی گیشن ہو رہی ہے یا ڈرامہ بازی ہے۔

عدالت نے کہا کہ حکومتی مشیر اور وزیرقانون موقع پرجاکر تصویریں بنارہےہیں، کیاوزیرقانون انویسٹی گیشن افسرہےجووہاں تصویریں بنارہےہیں، یہ تصویریں بعدمیں سوشل میڈیا پرڈال کردکھاتےہیں بڑاکام کیا۔

چیف جسٹس محمد قاسم خان نے واقعہ کی تحقیقات کے لیے کمیٹی کا نوٹیفکیشن ، تازہ رپورٹ اور سی سی پی او لاہور کو بھی طلب کرلیا۔

چیف جسٹس نے سرکاری وکیل سے پوچھا کہ سی سی پی او نے جوبیان دیا اس پر کیا کارروائی ہوئی؟ کیا آپ کہہ رہے ہیں کہ سی سی پی او کے بیان پرانکوائری ہورہی ہے؟ سرکاری وکیل نے جواب دیا کہ پورے معاملے کی انکوائری ہو رہی ہے، چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ نے ریمارکس دیے کہ معاملے پر سخت ایکشن ہونا چاہیے تھا تاکہ قوم کی بیٹیوں کو حوصلہ ہوتا، آپ سب کو بلا لیں پھر دیکھتے ہیں معاملے کو۔

سی سی پی اولاہور عمر شیخ عدالت میں پیش ہوئے ، چیف جسٹس نے کہا کمیٹی بنانے کا اختیار کس کے پاس ہے ،قانون میں واضح ہے، ہر چیز ایک قانون کے تحت ہوتی ہے ، کمیٹی کمیٹی نہ کھیلا جائے، تین دن میں رپورٹ آنی تھی کیا ہوا، آپ ابھی رپورٹ منگوائیں کہ اب تک کیاہوا ہے، سمجھ نہیں آتی ، معاشرہ رول آف لاکے بغیر نہیں چل سکتا ، کابینہ فیصلہ کرتی کہ پولیس کو اب کیسے کام کرنا ہے ، کمیٹی میں ماہرلوگ شامل کئے جاتےہیں تاکہ شفاف تفتیش ہوسکے۔

سرکاری وکیل کا کہنا تھا کہ سی سی پی او سے وضاحت طلب کی گئی ہے ،نوٹس جاری کیا گیا کہ متاثرہ خاتون سےمتعلق ایسا بیان کیوں دیا ، جواب آنے کے بعد متعلقہ اتھارٹی کے پاس معاملہ بھیجا جائے گا۔

چیف جسٹس نے کہا آئی جی پنجاب نے لکھا کارروائی ہوگی مگریہ نہیں بتایاکس قانون کےتحت، آئی جی نےنہیں بتایا سی سی پی او نےکون سےقانون کی خلاف ورزی کی، سرکاری وکیل نے بتایا سی سی پی او لاہور کا عمل مس کنڈکٹ کے زمرے میں آتا ہے۔

جسٹس محمدقاسم خان کا کہنا تھا کہ یہ ایسے شخص کی رپورٹ ہے جس نے پورے صوبےمیں قانون نافذکرناہے ، لگتا ہے گونگلووں سے مٹی جھاڑی گئی ہے۔

سی سی پی اولاہور نے بیان میں کہا کہ 9 تاریخ کی رات کویہ واقعہ پیش آیا، جس مقام پر یہ واقعہ پیش آیا وہاں پولیس تعینات نہیں تھیں ، پچھلے کچھ سالوں سے زیادہ موٹر ویزبنی ہیں وسائل اورنفر ی کم ہے ، یہ ذمہ داری ان حکومتوں کی ہے انہوں نے فیصلہ کرناتھا ،رنگ روڈ تک ہمارادائرہ اختیار ہے اس کے بعد ہماری ذمہ داری نہیں تھی، اداروں میں کھچاؤاور ہم آہنگی نہ ہونے سےصورتحال بہتر نہیں ہوئی، مجھ پر الزام لگتا ہے کہ میں نے بیان دیا حالانکہ 15 پر کال کرنا چاہیےتھا۔

چیف جسٹس نے کہا بچی توخوفزدہ تھی مگر موٹر وے انتظامیہ نے کیوں 15پرکال نہیں کی، سی سی پی او نے بتایا کہ یہ ہمارے نظام کی کمزوری ہے۔

سرکاری وکیل نے واقعےپر قائم کمیٹی کا نوٹیفکیشن عدالت میں پیش کیا، چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کمیٹی کمیٹی کھیلنا بند کیا جائے ۔

چیف جسٹس نے سی سی پی او کو شوکاز دینے کے معاملے پر آٸی جی کی رپورٹ پر قرار دیا کہ گونگلوؤں سے مٹی جھاڑنے والی بات ہے، جس شخص کیخلاف کاروائی کی جارہی ہے اس کو بتایا تو جائے اس نے کیا خلاف ورزی کی ہے۔

سی سی پی او نے تفتیش کی تفصیلات سے آگاہ کیااور اعتراف کیا کہ موٹروے پر سکیورٹی نہیں تھی، چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ پولیس کوئی جواز پیش کر کے اپنی ذمہ داری سے مبرا نہیں ہے ۔

سماعت کے دوران درخواست گزار نے سانحہ ساہیوال کا حوالہ دیا توچیف جسٹس نے کہا کہ سانحہ ساہیوال کی بات نہ کریں اس میں فیملی بے گناہ تھی لیکن اس میں کئی تلخ حقیقتیں تھیں ۔

سی سی پی او لاہور عمر شیخ نے کہا کہ دو تین دن میں سب کھل کر سامنے آجائے گا جبکہ سی سی پی او نے اپنے بیان پر معافی مانگی اور کہا کہ میں معذرت چاہتا ہوں ۔

چیف جسٹس نے کہا رات کو سفر کرنے کے معاملے پر پولیس اپنی ذمہ داری سے مبرا نہیں ہو سکتی ، قانون کے مطابق سب کچھ ہونا چاہیے کوئی بات ماورائے قانون نہیں ہونی چاہیے، اب وہ وقت آگیا ہے کہ کسی کو معافی نہیں ملے گی سب کو پکڑیں گے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں