The news is by your side.

Advertisement

لاہورہائی کورٹ کا شہباز شریف کا نام ای سی ایل سے نکالنے کا حکم

لاہور: عدالت عالیہ نے مسلم لیگ ن کے صدر شہباز شریف کا نام ایگز ٹ کنٹرول لسٹ سے خارج کرنے کا حکم صادر کردیا ہے۔

تفصیلات کےمطابق لاہور ہائی کورٹ نے آج بروز منگل شہباز شریف کا نام ای سی ایل سے نکالنے کا حکم دیا ہے ، ان کا نام گزشتہ ماہ نیب کی سفارش پر ای سی ایل میں ڈالا گیا تھا۔

گزشتہ ماہ 22 فروری کو وزارت داخلہ نے نیب کی سفارش پر اثاثہ جات کیس میں سابق وزیراعلیٰ پنجاب اور اپوزیشن قومی اسمبلی شہباز شریف کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ (ای سی ایل) میں داخل کیا تھا جس کے خلاف 28 فروری کو شہباز شریف نے اپیل دائر کی تھی۔

شہباز شریف کے وکیل اعظم نذیر تارڑ نے مؤقف اختیار کیا کہ نیب کے کہنے پر ایف آئی اے نے شہباز شریف کا نام ای سی ایل میں شامل کیا۔ شہباز شریف انکوائری کے دوران بھی بیرون ملک جا کر واپس آتے رہے۔

نیب پراسیکیوٹر نے عدالت کو آگاہ کیا شہباز شریف کے 3300 ملین روپے کے آمدن سے زائد اثاثہ جات ہیں۔ شہباز شریف کے خلاف ابھی انکوائری جاری ہے۔ای سی ایل سے نام نکلوانے کے لئے شہباز شریف متعلقہ فورم سے رجوع کریں۔

عدالت نے قرار دیا کہ نیب جو الزامات لگا رہا ہے اس کا دستاویزی ثبوت دیا جائے۔ صرف الزامات کی بنیاد پر نام ای سی ایل میں شامل کیسے کیا جا سکتا ہے۔

عدالت نے قرار دیا کہ زبانی کلامی بات کی بجائے دستاویزات پیش کی جائیں اس طرح تو زبانی طور ہر یہ بھی کہا جا سکتا ہے کہ شہباز شریف دنیا کے سب سے امیر انسان ہیں۔ کیا الزامات کی بنیاد پر کسی کی آزادی سلب کی جا سکتی ہے۔

دلائل کے بعد عدالت نے شہباز شریف کا نام ای سی ایل سے خارج کرنے کا حکم دے دیا۔

فروری میں ہی لاہور ہائی کورٹ میں جسٹس ملک شہزاد اور جسٹس مرزا وقاص پرمشتمل بینچ نے شہبازشریف کی رمضان شوگر ملز اور آشیانہ اسکینڈل کیسزدرخواست ضمانت پرسماعت کرتے ہوئے ان کی ضمانت منظور کی تھی۔

لاہور ہائی کورٹ نے شہبازشریف کو10،10لاکھ کے 2 ضمانتی مچلکے جمع کرانے کی ہدایت بھی کی تھی۔دوسری جانب لاہور ہائی کورٹ نے آشیانہ اسکینڈل میں فواد حسن فواد کی ضمانت منظور اورآشیانہ اسکینڈل کیس میں ضمانت کی درخواست مسترد کردی تھی۔

قومی احتساب بیورو (نیب) نے 14 مارچ کوشہبازشریف کی ضمانت منسوخی کے لیے سپریم کورٹ سے رجوع کیا تھا۔نیب کی جانب سے اسپیشل پراسیکیوٹر اکرم قریشی نے عدالت عظمیٰ میں درخواست دائر کی تھی جس میں موقف اختیار کیا گیا تھا کہ ہائی کورٹ نے حقائق کے برعکس شہبازشریف کی درخواست ضمانت منظور کی گئی ہے ، تاہم عدالت عظمیٰ نے اس درخواست کو اعتراض لگا کر مسترد کردیا تھا۔

یاد رہے کہ 4 مارچ کو جسٹس ملک شہزاد احمد خان کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے لاہور ہائی کورٹ میں شہبازشریف کی درخواست پرسماعت کی تھی۔

عدالت نے استفسار کیا تھا کہ یہ معاملہ سنگل بینچ کا ہے، کیس دو رکنی بینچ میں کیسے لگا؟ جس پر شہبازشریف کے وکیل اعظم نذیر تارڑ کا کہنا تھا کہ پہلے بھی اسی نوعیت کا کیس سنگل بینچ سن چکا ہے لیکن رجسٹرار آفس نے 2 رکنی بینچ کے روبرو لگا دیا۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں