The news is by your side.

Advertisement

لیبیا سے تعلق رکھنے والے دھڑ جڑے بچوں کا سعودی عرب میں کامیاب آپریشن

ریاض: سعودی فرمانروا شاہ سلمان بن عبدالعزیز کی ہدایت پر ڈاکٹرز نے لیبیا سے تعلق رکھنے والے دھڑ جڑے کمسن بچوں کا کامیاب آپریشن کر کے انہیں علیحدہ کردیا۔

عرب میڈیا رپورٹ کے مطابق شیر خوار بھائیوں کا دھڑ پیدائشی طور پر ایک دوسرے کے ساتھ جڑا ہوا تھا، والدین دونوں کو علاج کے لیے سعودی عرب لے کر آئے جہاں اُن کا (منگل) کے روز ڈاکٹرز نے معائنہ کیا۔

سعودی عرب سے تعلق رکھنے والے ماہر سرجن ڈاکٹر عبد اللہ بن عبدالعزیز نے آپریشن تجویز کیا تھا، انہوں نے اپنی نگرانی میں ماہر ڈاکٹرز ایک کمیٹی تشکیل دی تھی جس نے گزشتہ روز احمد اور محمد نامی بچوں کا کامیاب آپریشن کیا۔

میڈیا رپورٹ کے مطابق بچوں کی سرجری شاہ عبد العزیز میڈیکل سٹی اسپتال میں کی گئی جس میں دس گھنٹے سے زائد کا وقت لگا۔ ڈاکٹرز نے ابتدائی ٹیسٹ کے بعد آپریشن کی کامیابی کا اظہار کیا تھا۔

سرجن ڈاکٹر عبداللہ نے عرب میڈیا کا کہنا تھا کہ دونوں بچوں کے پیٹ کا نچلا حصہ آپس میں جڑا ہوا اور  دونوں کا اندرون نظام ایک تھا، اسی طرح بڑی آنت اور معدے کا کچھ حصہ بھی جڑا ہوا تھا جسے کامیابی سے علیحدہ کردیا گیا۔

آپریشن کو پندرہ مراحل میں مکمل ہونا تھا البتہ ابتدائی 9 مرحلوں کے بعد ہی ڈاکٹرز کو کامیابی حاصل ہوئی جس کے بعد دونوں کو انتہائی نگہداشت وارڈ میں منتقل کیا گیا جہاں اُن کی مسلسل مانیٹرنگ کی جارہی ہے، ڈاکٹرز نے دونوں بچوں کی طبیعت کو اطمینان بخش قرار دیا۔

قبل ازیں ڈاکٹر کا کہنا تھا کہ ویسے تو آپریشن کی کامیابی کے امکانات زیادہ ہیں البتہ سرجری کے دوران کسی بھی ممکنہ پیچیدگی کے پیش نظر والدین سے اجازت لی گئی۔ انہوں نے بتایا تھا کہ دنیا میں دھڑ جڑے بچوں کی پیدائش کی شرح بہت کم ہے، البتہ جدید سامان اور مشینری کی وجہ سے آپریشن بھی وقت کے ساتھ ساتھ آسان ہوچکا ہے۔

ڈاکٹر عبداللہ کا کہنا تھا کہ ’آپریشن کرنے میں 15 گھنٹے سے زیادہ کا وقت بھی لگ سکتا ہے کیونکہ یہ گیارہ مراحل میں مکمل ہوگا اور سرجری میں 35 ماہ ڈاکٹرز حصہ لیں گے‘۔

عرب میڈیا رپورٹ کے مطابق سعودی عرب میں اب تک 48 دھڑ جڑے بچوں کے کامیاب آپریشن کیے جاچکے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق لیبیا کے جڑواں بچوں کو علاج فراہم کرنے کی خصوصی ہدایت سعودی عرب فرمانروا شاہ سلمان بن عبدالعزیز نے دی اور اخراجات خود ادا کرنے کا اعلان کیا ہے۔

fb-share-icon0
Tweet 20

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں