The news is by your side.

Advertisement

لیبین دارالحکومت میں حکومتی اور جنرل حفتر کی فورسز میں جھڑپ، 21 افراد ہلاک

طرابلس : لیبیا کے دارالحکومت کے جنوبی علاقے میں جنرل حفتر کی لیبین نیشنل آرمی اور حکومتی فورسز کے درمیان خونریز جھڑپیں جاری ہیں جس کے نتیجے میں 21 افراد ہلاک ہوگئے۔

تفصیلات کے مطابق لیبیا کے دارالحکومت طرابلس کے جنوبی علاقے میں جنرل خلیفہ حفتر کی لیبین نیشنل آرمی (ایل این اے) اور حکومتی فورسز کے درمیان گھمسان کی جنگ جاری ہے متحارب گروپوں کی ایک دوسرے کے ٹھکانوں پر بمباری کے نتیجے میں 21 افراد ہلاک ہوگئے۔

خلیفہ حفتر کی فورسز نے اعتراف کیا ہے کہ جھڑپوں میں ان کے 14 اہلکار مارے گئے جبکہ لیبین ریڈ کریسنٹ کا کہنا ہے کہ ان کا ایک ڈاکٹر بھی مارا گیا۔

دوسری جانب ایمرجنسی سروس کے ترجمان اسامہ علی نے کہا ہے کہ حالات کشیدہ ہونے کی وجہ سے رضاکار تاحال جنگی مقامات پر داخل نہیں ہو پائے اورامدادی کارروائیاں شروع نہیں کی گئیں۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کا کہنا ہے کہ وادی رابہ کے دور دراز علاقوں میں جھڑپوں کے نتیجے میں دارالحکومت کے جنوبی علاقے میں قائم انٹرنیشنل ایئر پورٹ تباہ ہو گیا۔

غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق پیر کو جاری کیے گئے ایک بیان میں لیبیا کی اتحادی حکومت نے بتایا کہ لڑائی میں اب تک 21 افرادہلاک ہوئے ہیں۔

جی این اے فورسز کے ترجمان کا کہنا تھا کہ وادی رابہ کے دور دراز علاقوں میں جھڑپوں کے نتیجے میں دارالحکومت کے جنوبی علاقے میں قائم انٹرنیشنل ائر پورٹ تباہ ہو گیا ہے۔

کرنل محمد غونو نے کارروائیوں کے حوالے سے میڈیا کو آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ لیبیا کے تمام شہروں میں جارحیت کرنے والے اور غیرقانونی فورسز کے خلاف شدید غصہ پایا جاتا ہے۔

اتحادی حکومت کی وزارت صحت کا کہنا تھا کہ اب تک کم ازکم 21 افراد ہلاک ہو چکے ہیں اور 27 افراد زخمی ہیں تاہم شہریوں اور فوجیوں کی ہلاکتوں کے حوالے سے واضح نہیں کیا گیا۔

مزید پڑھیں : لیبیا نیشنل کانفرنس مقررہ وقت پر ہی ہوگی، اقوام متحدہ

دوسری جانب ایل این اے کا کہنا تھا کہ انہوں نے طرابلس کے مضافاتی علاقے میں پہلی مرتبہ فضائی کارروائی کی ہے جبکہ عالمی سطح پر جنگ بندی کی اپیلوں کو نظر انداز کردیا گیا۔

یاد رہے کہ لیبیا میں 2011 میں اس وقت کے مضبوط حکمران معمر قذافی کے خلاف عوام نے شدید احتجاج کیا تھا اور عوام کو نیٹو ممالک کا تعاون بھی حاصل تھا تاہم معمر قذافی کے اقتدار کے خاتمے کے بعد انتظامیہ اور مسلح گروہوں کے درمیان حکومت کے حصول کے لیے لڑائی شروع ہوئی۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں