تازہ ترین

ایرانی صدر ابراہیم رئیسی کی کراچی آمد، مزار قائد پر حاضری

کراچی: پاکستان کے تین روزہ سرکاری دورے پر موجود...

ایرانی صدر کی مزار اقبال پر حاضری، پھول چڑھائے اور فاتحہ خوانی کی

لاہور: ایران کے صدر ابراہیم رئیسی کی لاہور آمد...

پاک ایران سرحد پر باہمی رابطے مضبوط کرنے کی ضرورت ہے، آرمی چیف

راولپنڈی: آرمی چیف جنرل عاصم منیر کا کہنا ہے...

پی ٹی آئی دورِحکومت کی کابینہ ارکان کے نام ای سی ایل سے خارج

وفاقی حکومت نے پی ٹی آئی دورِحکومت کی وفاقی...

لیبیا میں خوفناک سیلاب، لاشیں ملنے کا سلسلہ تاحال جاری

لیبیا کے ساحلی شہر درنہ میں آنے والے خوفناک سیلاب نے ہزاروں افراد کو موت کی نیند سلادیا، ریسکیو ادارے ایک ہفتے بعد بھی ملبے تلے اور سمندر سے لاشیں نکالنے میں مصروف ہیں۔

بین الاقوامی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق اس سیلاب میں ہزاروں افراد اپنی زندگیوں سے محروم ہوچکے ہیں، غمزدہ متاثرین کی مدد کے لیے اتوار کو بین الاقوامی امدادی کوششوں میں تیزی دیکھی گئی۔

سرچ اینڈ ریسکیو ٹیموں کے کارکنان چہرے کے ماسک اور حفاظتی لباس پہنے ہوئے زندہ بچ جانے والوں کی تلاش میں مصروف عمل ہیں، ریسکیو ٹیمیں کوششوں میں مصروف ہیں کہ شاید ملبے میں پھنسے کچھ لوگ ان کے انتظار ہوں اور وہ ان کی مدد کے لئے پہنچ جائیں۔

اقوام متحدہ کی ایجنسیوں کا کہنا ہے کہ صدمے کے شکار رہائشیوں میں مختلف بیماریاں پھیلنے کے خطرات بڑھ گئے ہیں، متاثرین کو صاف پانی، خوراک، رہائش اور بنیادی سامان کی اشد ضرورت ہے۔ تنہا درنہ شہر میں 30 ہزار سے زائد افراد اپنے گھروں سے محروم ہوچکے ہیں۔

روس، تیونس، فرانس، ایران، مالٹا، ترکی اور متحدہ عرب امارات سے ایمرجنسی رسپانس ٹیمیں اور امدادی سامان کو لیبیا پہنچایا جاچکا ہے، جبکہ متعدد دیگر یورپی اور عرب ممالک سے بھی امدادی سامان اور ٹیمیں روانہ کردی گئی ہیں۔

سیلاب کی تباہ کاریوں کے باعث ہزاروں افراد کے سمندر میں بہہ جانے کا خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے، مشرقی انتظامیہ کے وزیر صحت عثمان عبدالجلیل نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ درنہ میں 3,252 افراد کی ہلاکت کی تصدیق ہوئی ہے۔ کمبلوں اور باڈی بیگز میں لپٹی لاشوں کا ڈھیر چوکوں اور گلیوں میں موجود ہے۔

سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو گردش کررہی ہے جس میں دیکھا جاسکتا ہے کہ ایک کشتی میں لیبیا کی ایک ریسکیو ٹیم کے اراکین آپس میں بات کر رہے ہیں کہ ”درنہ سے قریب 20 کلومیٹر مشرق کی طرف اُم البریکت سمندر کے ساحل سے تقریباً 600 لاشیں ملی ہیں۔“ اقوام متحدہ کی جانب سے 71 ملین ڈالر سے زیادہ کی امداد کی اپیل کی گئی ہے، تاکہ متاثرین کے زخموں پر مرہم رکھا جاسکے۔

Comments

- Advertisement -