The news is by your side.

Advertisement

کرونا کی طرح ایف اے ٹی ایف گرے لسٹ سے بھی نکلیں گے: وزیر اعظم

اسلام آباد: وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ کرونا وبا کی طرح ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ سے بھی نکلیں گے، اپوزیشن سے مذاکرات کر کے کوشش کی کہ گرے لسٹ سےنکلیں، لیکن آج ثابت ہو گیا کہ اپوزیشن لیڈرز اور پاکستان کا مفاد اکٹھے نہیں چل سکتا، نیب شقوں میں ترمیم دے کر ہمیں بلیک میل کرنے کی کوشش کی گئی۔

ان خیالات کا اظہار وزیر اعظم نے آج پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا، انھوں نے کہا میں تو سوچ رہا تھا کہ اپوزیشن ذاتی مفاد کی بجائے عوام کا مفاد دیکھے گی، امید اس لیے تھی کہ گرے لسٹ پاکستان کا مسئلہ ہے، امید تھی کہ ایف اے ٹی ایف مسئلے پر اپوزیشن حکومت کا ساتھ دے گی لیکن آج میں نے دیکھ لیا کہ اپوزیشن کو پاکستان کے مفاد کی کوئی فکر نہیں، ساری اپوزیشن نہیں چند لیڈرز صورت حال کے ذمہ دار ہیں۔

وزیر اعظم نے کہا اپوزیشن نے اپنے مفاد کے لیے ہر قسم کی کوشش کی، اپوزیشن نے نیب قوانین سے متعلق 34 ترامیم پیش کیں، یہ تجاویز اپنے کیسز ختم کرانے کے لیے ہیں، آج اپوزیشن کے اہم لیڈرز منی لانڈرنگ کیسز میں پھنس چکے ہیں، ایف اے ٹی ایف گرے لسٹ میں پاکستان ہماری وجہ سے نہیں گیا، یہ ہمیں وراثت میں ملی، سب کو پتا ہونا چاہیے کہ بلیک لسٹ میں جانے کا کیا مطلب ہے، بلیک لسٹ ہوتے تو تمام درآمدات پر پابندیاں لگ جاتیں۔

انھوں نے کہا اللہ کا شکر ہے پاکستان کرونا کی وبا سے باہر نکلا، اس کی وجہ سے بھارت کا جی ڈی پی 24 فی صد نیچے گیا، دوسری طرف ڈبلیو ایچ او کہہ رہا ہے کرونا کے خلاف جنگ میں پاکستان سے سیکھو، امید کر رہا تھا کہ اپوزیشن کم از کم تھوڑی سی تو تعریف کرے گی، لیکن اپوزیشن لیڈرز کا رویہ دیکھا تو میرے شکوک کی آج تصدیق ہو گئی، اپوزیشن کا خیال تھا ہم بلیک میل ہو جائیں گے لیکن نہیں ہوئے۔

جنسی جرائم روکنے کے لیے 3 طریقوں سے کام کی ضرورت ہے

وزیر اعظم نے کہا آج اس ایوان نے ثابت کیا ہے کہ یہ پاکستان کے ساتھ کھڑے ہیں، اہم قانون سازی پر تمام اتحادیوں کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں، گجرپورہ واقعے نے پورے ملک کو ہلا کر رکھ دیا ہے، ایسی قانون سازی کرنی چاہیے جس سے خواتین اور بچوں کو تحفظ ملے، ریپ سے زندگی تباہ ہوتی ہے بلکہ خاندان بھی نقصان اٹھاتا ہے، جب سے یہ واقعہ ہوا سوچ رہے ہیں اس کے لیے بہترین قرارداد پاس کریں۔

انھوں نے کہا دنیا کا تجربہ بتاتا ہے کہ جنسی جرائم کرنے والے دوبارہ جرائم کرتے ہیں، ایسے واقعات کے خلاف 3 طریقوں سے کام کرنے کی ضرورت ہے، ہمیں سب سے پہلے پولیسنگ کو بہتر کرنا ہوگا، جنسی جرائم میں ملوث عناصر کا باقاعدہ ریکارڈ مرتب کیا جائے گا، عابد جیسے درندے پہلے بھی ریپ کیسز میں ملوث رہے، ایسے عناصر کو پہلے سخت سزائیں دی جاتیں تو دوبارہ ایسی درندگی نہ کرتے، پولیس رجسٹریشن ضروری ہے، جس میں جنسی مجرموں کو رجسٹرڈ کیا جاتا ہے۔

وزیر اعظم نے کہا ہم عبرت ناک سزاؤں سے متعلق ایک بل کی تیاری کر رہے ہیں جس میں سخت سزائیں شامل ہیں، چند دنوں میں بل اسمبلی کے سامنے پیش کر دیا جائے گا، گجرپورہ جیسے واقعات کی روک تھام کے لیے ہمیں متفقہ قانون منظور کرنا چاہیے۔ تیسرا یہ کہ ملزم کو پکڑ کر جرم کو ثابت کرنا بھی مشکل ترین مرحلہ ہوتا ہے، جرم ثابت کرنے سے متعلق بھی مکمل قانون سازی ہوگی۔

Comments

یہ بھی پڑھیں