The news is by your side.

Advertisement

لاہور میں شیر سستا، بھینس مہنگی، کیا اب شیر خریدنا آسان ہوگیا؟ جانیے

لاہور: زندہ دلان لاہور میں شیر کی قیمت بھینس سے بھی نیچے گر گئی ہے، اور شیر بھینس سے کہیں سستے فروخت ہونے لگے ہیں۔

آپ یہ مشہور محاورہ وقتاً فوقتاً سنتے اور پڑھتے ہوں گے ’بھینس کے آگے بین بجانا‘، یعنی کسی بے وقوف یا نا اہل آدمی کے سامنے دانش مندی کی بات کرنا، بہ ظاہر اس محاورے سے بھینس کی وقعت میں کمی ہو رہی ہے لیکن یہاں جو خبر دی جا رہی ہے اس میں شیر کی قیمت بھینس سے بھی کہیں کم نکلی ہے۔

لاہور کے محکمہ جنگلی حیات نے حال ہی میں 14 عدد شیر فروخت کیے ہیں جن میں سے ہر شیر محض ڈیڑھ لاکھ روپے میں بیچا گیا، واضح رہے کہ پالتو بلیاں اور کتے بھی ڈیڑھ دو لاکھ کے فروخت ہو جاتے ہیں۔

جو چودہ شیر فروخت کیے گئے ان میں چار شیر لاہور چڑیا گھر کی ملکیت تھے، ڈائریکٹر کا کہنا تھا کہ ان کے پاس 4 شیر اضافی تھے اس لیے فروخت کیے گئے، ایک شیر کو دن میں 7 سے 10 کلو گوشت کھلانا پڑتا ہے، اس لیے انھیں پالنا مہنگا پڑ رہا تھا، انھوں نے کہا کہ شیر کی قیمت کا تعین محکمانہ پالیسی کے تحت کیا جاتا ہے، تاہم دوسری طرف اوپن مارکیٹ کے مطابق شیر کی قیمتِ فروخت 45 لاکھ روپے تک ہے۔

وائلڈ لائف ایکسپرٹ ڈاکٹر عظمیٰ نے اے آر وائی نیوز کے پروگرام باخبر سویرا میں بتایا کہ پاکستان میں اگر آپ بھی شیر رکھنا چاہتے ہیں تو رکھ سکتے ہیں، اس حوالے سے قوانین کا اطلاق نہیں ہوتا کیوں کہ شیر مقامی جانور نہیں ہے بلکہ باہر سے آتا ہے، اس لیے لوگوں نے گھروں میں پال رکھے ہیں۔

ڈاکٹر عظمیٰ کا کہنا تھا کہ اگر ادارے خود شیر فروخت کریں گے تو انٹرنیشنل کمیونٹی کو اس سے ایک غلط پیغام جاتا ہے، غیر ممالک میں زو کسی ایسوسی ایشن کے ممبر ہوتے ہیں، اگر وہاں کوئی جانور اضافی ہو جاتا ہے اسے انجمن کے تحت ایکسچینج یا عطیہ کیا جاتا ہے، لہٰذا اگر زو جس کا مقصد پبلک ایجوکیشن اور جانوروں کا تحفظ ہوتا ہے، جانور بیچیں گے تو ایک غلط میسج جاتا ہے۔

انھوں نے کہا دنیا بھر میں چڑیا گھروں کے اندر جگہ کے حساب سے جانوروں کی افزائش کی جاتی ہے، اس لیے مانع حمل طریقے بھی استعمال کیے جاتے ہیں، اگر زو کہتے ہیں کہ ان کے پاس وسائل نہیں ہیں تو پچھلے سال متحدہ عرب امارات سے 18 شیروں کا عطیہ قبول کیا گیا تھا، اگر ذرایع نہیں ہیں ہمارے پاس تو پھر یہ شیر کیوں قبول کیے گئے۔

ڈاکٹر عظمیٰ نے نجی بریڈنگ فارمز کے حوالے سے بتایا کہ انھیں کھلی چھٹی ملی ہوئی ہے، کہ وہ کمرشل مقاصد کے لیے جانوروں کی افزائش کر کے انھیں فروخت کر سکتے ہیں، ان فارمز کے لیے جو صوبائی سطح پر قوانین موجود ہیں ان میں بہتری کی بہت ضرورت ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں