نشان حیدر پانے والے فوج کے 10 بہادر سپوت -
The news is by your side.

Advertisement

نشان حیدر پانے والے فوج کے 10 بہادر سپوت

نشان حیدر پاکستان کا سب سے بڑا فوجی اعزاز ہے۔ یہ اب تک پاک فوج کے 10 شہدا کو مل چکا ہے جنہوں نے وطن کی خاطر بہادری کی تاریخ رقم کی۔

یہ اعزاز حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہہ کے نام سے منسوب ہے جن کا لقب حیدر تھا اور ان کی بہادری ضرب المثل ہے۔

نشان حیدر پانے والے فوج کے 10 شہدا یہ ہیں۔

کیپٹن محمد سرور شہید

captain-Muhammad-Sarwar-Shaheed

میجر طفیل محمد شہید

Major-Tufail-Muhammad-shaheed

میجر راجہ عزیز بھٹی شہید

Major-Raja-Aziz-Bhatti-shaheed

میجر محمد اکرم شہید

Major-Muhammad-Akram-shaheed

پائلٹ آفیسر راشد منہاس شہید

Pilot-officer-Rashid-Minhas-shaheed

میجر شبیر شریف شہید

Major-Shabbir-Sharif-shaheed

جوان سوار محمد حسین شہید

Sawar-Muhammad-Hussain-shaheed

لانس نائیک محمد محفوظ شہید

Lance-Naik-Muhammad-Mehfooz-shaheed

کیپٹن کرنل شیر خان شہید

Captain-Colonel-sher-khan-shaheed

حوالدار لالک جان شہید

Hawaldar-lalak-jan-shaheed

سب سے پہلا نشان حیدر 27 جولائی 1948 کو دشمن کے عزائم خاک میں ملانے والے کیپٹن محمد سرور شہید کو دیا گیا۔

سات اگست 1958 کو میجر طفیل مشرقی پاکستان میں جام شہادت نوش کر کے نشان حیدر کے حق دار قرار پائے۔

سنہ 1965 کی جنگ میں میجر راجہ عزیز بھٹی نے دشمن کے خلاف داد شجاعت دیتے ہوئے جام شہادت نوش کیا اور نشان حیدر پایا۔

جام شہادت نوش کرنے والے پاک فضائیہ کے پائلٹ افسر راشد منہاس، بری فوج کے میجر شبیر شریف، جوان سوار محمد حسین، میجر محمد اکرم اور لانس نائیک محمد محفوظ نے بہادری کی داستانیں رقم کیں اور نشان حیدرسے سرفراز ہوئے۔

سنہ 1999 میں کارگل میں بہادری سے جان، جان آفریں کے سپرد کرنے والے قوم کے سپوتوں شہید کیپٹن شیر خان اور حوالدار لالک جان کو نشان حیدر سے نوازا گیا۔

ان میں ایک اور نام نائیک سیف علی جنجوعہ کا بھی ہے جنہیں 1947 میں ہلال کشمیر دیا گیا۔ آزاد کشمیر حکومت کی جانب سے دیا جانے والا یہ اعزاز نشان حیدر کے برابر ہے۔

Saif-Ali-Janjua

اعلیٰ ترین فوجی اعزاز نشان حیدر جنگوں کے دوران دشمن افواج سے چھینے گئے اسلحہ کی دھات سے بنایا جاتا ہے۔ اب تک بری فوج کے حصہ میں 9 جبکہ پاک فضائیہ کے حصے میں ایک نشان حیدر آیا ہے۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں