The news is by your side.

Advertisement

’اونٹ کی نسل والا جانور کرونا کے علاج کے لیے مفید ہوسکتا ہے‘ : ماہرین پرامید

نیویارک: امریکا اور بیلجیئم کے سائنسی ماہرین نے دعویٰ کیا ہے کہ اونٹ کی نسل والا جانور ’لاما‘ کرونا وائرس کے علاج میں مفید ثابت ہوسکتا ہے۔

خبررساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق سائنسی ماہرین نے لاما کے جسم میں پائے جانے والے ایک ایسے چھوٹے زرے کی نشاندہی کی جو ممکمنہ طور پر کرونا وائرس کو روکنے میں کارگر ثابت ہوسکتا ہے۔

ماہرین کے مطابق لاما کے جسم میں موجود اینٹی باڈیز کرونا وائرس کا راستہ روک سکتے ہیں۔

یونیورسٹی آف ٹیکساس اور وی آئی بی یو جینٹ سینٹ برائے میڈیکل بائیو ٹیکنالوجی کے ماہرین کی جانب سے کی جانے والی تحقیق کے نتائج جرنل سیل میں شائع کیے گئے۔

تحقیقی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ماہرین نے سارس اور مرس وائرس سے مقابلہ کرنے والے اینٹی باڈیز کی تلاش کا آغاز 2003 اور 2012 میں  کیا تھا۔

تحقیقی ٹیم کے سربراہ ژیویئر سالنز کا کہنا ہے کہ ’ہم نے 2016 میں اس کام کا آغاز بطور سائیڈ پروجیکٹ کے طور پر کیا، ہمیں محسوس ہوتا تھا کہ یہ وقت کے ساتھ دلچسپ ہوگا، جب کرونا وائرس سامنے آیا تو ہمارا منصوبہ پہلے سے زیادہ اہم ہوگیا‘۔

ماہرین نے سارس اور میرس وائرس کی محفوظ قسم لاما کو دی جس کے بعد اُن کے خون کے نمونے بھی حاصل کیے گئے تھے۔

بیلجیئم کی تحقیقی ٹیم نے لاما میں پائے جانے والے چھوٹے اینٹی باڈیز کے ٹکڑوں کی نشاندہی کی جنہیں طبی زبان میں نانو باڈیز کے نام سے جانا جاتا ہے۔

تحقیقی نتائج میں بتایا گیا ہے کہ چونکہ کرونا وائرس سارس اور میرس وائرس کی ہی ایک قسم ہے لہذا اس کے علاج کے لیے بھی لاما کے اینٹی باڈیز کو استعمال کیا جاسکتا ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں